ٹوئٹر پر بلیو ٹک چاہیے تو ماہانہ آٹھ ڈالر دینا ہوں گے: ایلون مسک

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہTWITTER

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک کہتے ہیں کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بلیو ٹک (ویریفائیڈ اکاؤنٹ) حاصل کرنے کے لیے صارفین کو ماہانہ آٹھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔

چوالیس ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر خریدنے اور کمپنی میں اعلیٰ عہدوں پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کے بعد ایلون مسک نے کہا کہ تصدیق شدہ صارف کا عندیہ دینے والے بلیو ٹک کے عوض پیسے وصول کرنے سے ’جعلی اور پریشان کن مواد کو شکست دی جاسکتی ہے۔‘

ٹوئٹر پر بلیو ٹک کسی صارف کے نام کے ساتھ لگا ہوتا ہے اور یہ عموماً معروف شخصیات یا مصدقہ اکاؤنٹس کو مفت میں دیا جاتا ہے۔ اور اس کے حصول کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مسک کے اس فیصلے سے مصدقہ ذرائع کی جانچ مزید مشکل ہوسکتی ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے یہ بھی کہا ہے کہ پیسے دینے والے صارفین کو رپلائے اور سرچ میں ترجیح ملے گی جبکہ انھیں نصف اشتہارات نظر آئیں گے۔ ’قوت اب لوگوں کے ہاتھ میں! آٹھ ڈالر ماہانہ بلیو (ٹک) کے لیے۔‘

انھوں نے بلیو ٹک کے موجودہ طریقہ کار کو ’آقا اور غلام کا نظام‘ قرار دیا۔ ایلون مسک نے کہا ہے کہ مختلف ممالک میں قوت خرید کے فرق کے مطابق آٹھ ڈالر فی ماہ کی رقم کو کم یا زیادہ کیا جائے گا۔

ایلون مسک کے اعلان سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ٹوئٹر اب ویریفائیڈ صارفین کو بلیو ٹک دینے کے لیے 20 ڈالر ماہانہ وصول کرے گا۔

اس بارے میں ان کی آرا اور تبصروں کے متعلق ہم آگے چل کر آپ کو بتاتے ہیں مگر جس ’بلیو ٹک‘ کی فیس پر اتنا شور مچا ہوا ہے آخر وہ ہے کیا اور اس کی اہمیت کیا ہے؟

 ٹوئٹر کا ’بلیو ٹک‘ کیا ہے؟

ٹوئٹر پر آپ نے اکثر ملکی سربراہان، سیاستدانوں، شوبز شخصیات، مصنفوں، صحافیوں اور دیگر شعبوں میں اعلیٰ سطح پر کام کرنے والے افراد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں ان کے نام کے آگے ایک ’بلیو ٹک‘ کا نشان دیکھا ہو گا۔

اس ’بلیو ٹک‘ کے حامل اکاؤنٹس کو ٹوئٹر کی جانب سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس قرار دیا جاتا ہے یعنی ان افراد نے اپنے پیشے، رتبے سے متعلق جو دیگر تفصیلات فراہم کی ہیں وہ درست ہیں۔

ٹوئٹر پر بلیو ٹک کے حامل اکاؤنٹس کو معتبر اور درست سمجھا جاتا ہے۔

ٹوئٹر، ایلون مسک، بلیو ٹک

،تصویر کا ذریعہReuters

’بلیو ٹک‘ کی اہمیت

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹوئٹر کے بلیو ٹک کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی دفتر میں آپ کے کسی ساتھی یا دوست کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلیو ٹک ہو جائے تو فوراً اس سے کھانا کھلانے یا پارٹی دینے کی فرمائش کر دی جاتی ہے۔

اگر کہیں وہ ایک صحافی ہو تو فوراً ہی وہ معتبر اور قابل بھروسہ صحافیوں کی فہرست میں شمار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات تو بلیو ٹک ملتے ہی آپ کے فالورز میں بھی ایک دم سے اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ٹوئٹر کی جانب سے بلیو ٹک اس وقت مفت دیا جاتا ہے اور اس کے حامل اکاؤنٹس کو مستند سمجھا جاتا ہے۔

مگر یہ صرف آپ کے کوائف کی تصدیق سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ ٹوئٹر کا الگوردھم آپ کی جانب سے کی گئی ٹویٹس کے مواد، شئیر کی جانے والی مصدقہ معلومات، مذہبی و سیاسی خیالات اور دیگر چیزوں کی جانچ کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے فالورز کی تعداد پر آپ کو بلیو ٹک دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اس لیے تمام سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹس، سربراہان مملکت کے اکاؤنٹس، سماجی و شوبز شخصیات، ملکی و غیر ملکی معروف صحافی و صحافتی اداروں کے بیشتر اکاؤنٹس بلیو ٹک کے حامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوئٹر کے تصدیقی عمل اور بلیو ٹک پر تحفظات

تاہم پاکستان سمیت دنیا بھر کے بہت سے صارفین کو پہلے ہی ٹوئٹر کے تصدیقی عمل پر کچھ تحفظات اور خدشات ہیں۔

اس بارے میں پاکستان میں غیر سرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے سربراہ اسد بیگ کا کہنا تھا کہ انھیں ٹوئٹر کے اس تصدیق کے نظام پر تحفظات ہیں۔

’جن معلومات کی بنا پر میں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے لیے بلیو ٹک حاصل کیا انھی معلومات پر میری اہلیہ جو میرے ادارے کی ڈائریکٹر بھی ہیں وہ بھی ایک عرصے سے کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کو اب تک بلیو ٹک نہیں دیا گیا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں 20 ڈالر ماہانہ ایک اچھی خاصی رقم ہے اور اگر پہلے بھی میرا کام اس کے بغیر چل رہا تھا اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا تو اب میں کیوں اس کے لیے ادائیگی کروں۔‘

اسی طرح سوشل میڈیا صارف کونال شاہ نے لکھا کہ ’ٹوئٹر پر بلیو ٹک کو اثر و رسوخ کی نشانی سمجھا جاتا تھا، اور اب اگر ایسے افراد اپنے اس اثرو رسوخ کے لیے پیسے ادا کریں گے تو وہ اپنا اثر چھوڑ دیں گے اور جو بااثر نہیں ہیں وہ اس اعزازی بیج کو خریدیں گے اور اہم اور معزز ظاہر ہونے کی کوشش کریں گے۔ جس کا حتمی نتیجہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی اور تباہی ہے اور شاید اس فیصلے کا مقصد بھی یہ ہی ہو۔

سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

اب آپ خود سوچیے کہ جس شخص نے اب سے کچھ ہی ہفتے پہلے بلیو ٹک حاصل کرنے پر دوستوں کو کھانا کھلایا ہو اب اسے یہ خبر ملے کہ اسے اب 20 ڈالر تک ماہانہ جیب ڈھیلی کرنا پڑے گی تو اس کا ردعمل کیا ہو گا۔

دنیا بھر کے صارفین نے ٹوئٹر کے اس ممکنہ اقدام کی نہ صرف سخت الفاظ میں مذمت کی بلکہ ادارے کے تصدیقی عمل پر سوالات اور مستقبل کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔

انڈین صارف کستوری شنکر نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہائے ایلون اگر تم بلیو ٹک کے لیے پیسے وصول کرو گے تو ’ٹوئٹر کا پرندہ کیسے آزاد ہے‘۔ اظہار آزادی رائے کو مفت ہونا چاہیے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میرے خیال میں اگر ٹوئٹر نے آغاز سے ہی بلیو ٹک پر فیس عائد کی ہوتی تو بہت سے لوگ اسے قبول کر لیتے مگر اب کون اپنی ٹرولنگ کروانے کے ساتھ ساتھ 20 ڈالر ماہانہ دینا چاہے گا۔ اور اب ٹوئٹر ویریفائڈ صارفین کے لیے ٹرولنگ کروانے کی جگہ ہی تو رہ گیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

پاکستانی صحافی افتخار فردوس نے تو اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان معاشی حالات میں تو بلیو ٹک چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

جبکہ صحافی صبا اعتزاز نے لکھا کہ ’بلیو ٹک ابتدائی طور پر سیکورٹی، ساکھ اور غلط معلومات کو کم کرنے کے لیے تھا لیکن اس نئے اقدام کے عوامی اعتماد سے متعلقہ اداروں، صحافیوں اور حکومت پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 5

جہاں ایک جانب ٹوئٹر کے بلیو ٹک کے اثرات پر بات کی جا رہی ہیں وہیں کچھ صارفین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اب کتنے صارفین ماہانہ 20 ڈالر ادا کریں گے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 6

ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تو ان چیزوں کی فہرست بنا رہا ہو جو میں ماہانہ 20 ڈالر خرچ کر کے کر سکتا ہوں اور یہ کہ میں تو ٹوئٹر کو اپنا بلیو ٹک رکھنے کے لیے پیسے دینے والا نہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 7