ایلون مسک کی 44 ارب ڈالر میں ٹوئٹر خریدنے کی پیشکش ٹوئٹر بورڈ نے منظور کر لی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کی بڑی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے بورڈ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کو خریدنے کے لیے لگائی گئی 44 ارب ڈالرز کی پیشکش منظور کر لی ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے ارب پتی سربراہ ایلون مسک جنھوں نے یہ حیران کن بولی دو ہفتے قبل لگائی تھی نے کہا تھا کہ ’ٹوئٹر کے پاس غیر معمولی صلاحیت‘ موجود ہیں اور وہ اس کمپنی کے ملازمین اور صارفین کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں سامنے لا سکتے ہیں۔
ٹوئٹر بورڈ نے ابتدائی طور پر اس بولی کو مسترد کر دیا تھا لیکن اب وہ اس کے شیئر ہولڈرز سے اس معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹ کرنے کا کہے گا۔
ایلون مسک نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’آزادی رائے ایک فعال جمہوریت کی بنیاد ہے، اور ٹوئٹر ڈیجیٹل ٹاؤن سکوائر ہے جہاں انسانیت کے مستقبل کے لیے اہم معاملات پر بحث ہوتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس پراڈکٹ میں نئے فیچرز اور خصوصیات متعارف کروا کر، اس پر اعتماد بڑھانے کے لیے الگورتھم کو اوپن سورس بنا کر، سپیم بوٹس (جعلی بوٹس) کو شکست دے کر، اور تمام انسان صارفین کی تصدیق کے عمل کو بہتر کر کے ٹوئٹر کو پہلے سے بہتر بنانا چاہتا ہوں۔‘
ٹوئٹر بورڈ کے سربراہ بریٹ ٹیلر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ٹوئٹر کے لیے ایلون مسک کی جانب سے لگائی گئی بولی کا جامع اور تفصیلی طریقے کار سے جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجوزہ پیشکش کپمنی کو کافی مالی اور نقد فائدہ فراہم کرے گی، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ ٹوئٹر کے سٹاک ہولڈرز کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔‘
انھوں نے اس بولی کی کامیابی کی صورت میں کہا تھا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے متعلق متعدد تبدیلیاں کریں گے جن میں اس کی مواد شائع کرنے کی پابندیوں کو نرم کرنے سے لے کر جعلی اکاؤنٹس کا خاتمہ تک شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر خریدنے کی پیشکش منظور ہونے کے بعد ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نئی کمپنی کی سربراہی کون کرے گا۔ ٹوئٹر کی سربراہی فی الحال پراگ اگروال کر رہے ہیں، جنھوں نے گزشتہ نومبر میں شریک بانی اور سابق سربراہ جیک ڈورسی سے عہدہ سنبھالا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ایلون مسک نے اپنی بولی کی دستاویزات میں ٹوئٹر بورڈ کو بتایا تھا کہ 'مجھے کمپنی کی موجودہ انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے۔'
اس معاہدے کے تحت جس کے رواں برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے ٹوئٹر کے حصص کو ڈی لسٹ کر دیا جائے گا اور اس ذاتی حصص کے طور پر حاصل کیا جائے گا۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انھیں کاروبار میں ضروری تبدیلیاں جو وہ چاہتے ہیں کرنے کی آزادی فراہم کرے گا۔
یاد رہے کہ فوربز میگزین کے مطابق ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، جن کی دولت کی مجموعی مالیت 237.6 ارب ڈالر ہے۔ وہ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایرو سپیس کمپنی سپیس ایکس کے بھی سربراہ ہیں۔
اس سے قبل امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی خریداری کی افواہوں کی گردش نے ٹوئٹر کے سٹاک ریٹ میں تیزی سے اضافہ کیا۔ نیو یارک میں ٹوئٹر کے شیئرز میں تقریباً چار فیصد اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کو خریدنے کی خبروں میں اس وقت تیزی آئی جب رپورٹس کے مطابق ٹیسلا کے سربراہ سے ٹوئٹر بورڈ کی ملاقات میں 43 ارب ڈالر میں معاہدہ ہونے پر بات چیت ہوئی تھی۔
ایلون مسک نے بھی سوموار کو ٹوئٹر پر اپنے اکاوئنٹ سے پیغام دیا کہ مجھے امید ہے کہ میرے بدترین دشمن بھی یہاں موجود رہیں گے کیوں کہ یہی آزادی اظہار رائے ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ٹویٹر کے بورڈ نے مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے کے آخر میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک سے ملاقات کی ہے تاکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے لیے اُن کی لگائی گئی 43 ارب ڈالر کی بولی کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایلون مسک امریکی قرض دہندہ مورگن سٹینلے اور دیگر مالیاتی اداروں کی مدد سے بولی میں لگائی گئی رقم ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
خبررساں اداروں روئٹرز، نیویارک ٹائمز اور بلومبرگ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایلون مسک اپنی پیشکش کو کس طرح فنانس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس بارے میں امریکی ریگولیٹرز کو جمعرات کے روز تفصیلات بتائی گئیں جس کے بعد ٹویٹر کے 11 رکنی بورڈ نے ممکنہ معاہدے پر سنجیدگی سے غور کیا۔
واضح رہے کہ حال ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایلون مسک ٹوئٹر کے نو فیصد سے زیادہ شیئرز کے مالک ہیں اور انھوں نے اپنی بولی کے لیے 46.5 ارب ڈالر کا فنانسنگ پیکج تیار کیا ہے۔
فنڈنگ کے لیے رقم ان کے اپنے اثاثوں اور وال سٹریٹ بینکنگ کمپنی مورگن سٹینلے اور دیگر فرموں سے حاصل ہو گی۔
مسک کے فنانسنگ پلان کے اعلان کے بعد ٹویٹر کے متعدد شیئر ہولڈرز نے مبینہ طور پر کمپنی سے رابطہ کیا اور اس پر زور دیا کہ وہ ممکنہ معاہدے کا موقع ضائع نہ کرے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
انوسٹمنٹ فرم ویڈبش سکیورٹیز کے تجزیہ کار ڈین آئیوس کا کہنا ہے کہ بہت سے سرمایہ کار اس بات چیت کا مطلب یہ لیں گے کہ ٹویٹر کا بطورِ عوامی کمپنی خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی اور خریدار سامنے نہیں آتا تو مسک اب تقریباً اس کمپنی کو حاصل کرنے والے ہیں۔
ڈین آئیوس اسے ’گیم آف تھرونز بیٹل فار ٹوئٹر‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین شخص مسک کی جانب سے کمپنی پر قبضے کی کوشش بورڈ پر مزید دباؤ ڈالے گی۔
رواں مہینے کے شروع میں مسک نے ٹویٹر کے بورڈ میں نشست سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ حصص محدود ہو جائیں گے جن کی انھیں ملکیت کی اجازت تھی۔ اس کے بعد مسک نے 14 اپریل کو کمپنی کے لیے ایک غیر منقولہ پیشکش کی۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ٹوئٹر نے ایلون مسک کو اپنے بورڈ کا حصہ بننے کی آفر بھی کی تھی لیکن بعد میں ٹوئٹر نے اعلان کیا کہ ایلون مسک نے اس سے انکار کر دیا ہے۔
ٹوئٹر نے ایلون مسک کی پیشکش کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کا بورڈ ’اس تجویز کا بغور جائزہ لے گا تاکہ اس طریقہ کار کا تعین کیا جائے جو کمپنی اور تمام سٹاک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے اس سے قبل ایلون مسک نے کہا تھا کہ انھیں ’یقین نہیں‘ کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو خریدنے کے لیے ان کی لگائی گئی بولی کامیاب ہو گی۔
ایلون مسک نے یہ تبصرہ اس انکشاف کے چند گھنٹے بعد کیا تھا کہ انھوں نے ٹوئٹر کو خریدنے کے لیے فی حصص 54.20 ڈالر کی پیشکش کی ہے یعنی انھوں نے کمپنی کی مالیت کا تحمینہ 41 ارب ڈالر لگایا تھا۔
اس وقت بھی ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو نے کمپنی کے ملازمین کو بتایا تھا کہ کمپنی اس آفر کا جائزہ لے رہی ہے۔ مبینہ طور پر پیراگ اگروال نے عملے کے ساتھ میٹنگ میں کہا تھا کہ اس آفر کے حوالے سے کمپنی پر کوئی دباؤ نہیں۔
وینکوور میں ٹیڈ 2022 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں کہ میں ٹوئٹر کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاؤں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ٹوئٹر کے لیے ان کی بولی مسترد کیے جانے کی صورت میں ان کے پاس ’پلان بی‘ ہے لیکن اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے انھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں تھیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان کی پیشکش قبول نہیں کی جاتی تو ’میں بحیثیت شیئر ہولڈر اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کروں گا۔‘
ایلون مسک کا مزید کہنا تھا کہ اگر ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ان کی پیشکش کو مسترد کیا تو ’اس پیشکش کو شیئر ہولڈر کے ووٹ پر نہ ڈالنا مکمل طور پر ناقابل دفاع ہو گا۔‘
ایلون مسک نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا ’وہ کمپنی کی ملکیت رکھتے ہیں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نہیں۔‘
امریکی مالیاتی ریگولیٹر کو بتائی گئی تفصیلات کے مطابق ایلون مسک نے ٹوئٹر بورڈ کو پیغامات بھیجے تھے، جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ انھوں نے ٹوئٹر کو نجی کمپنی بنانے کا آئیڈیا پیش کیا۔
ان تفصیلات کے مطابق ایلون مسک نے کہا تھا ان کی پیشکش کی قیمت بہت زیادہ ہے اور شیئر ہولڈرز اسے پسند کریں گے۔
ایلون مسک نے کہا تھا ’یہ کوئی دھمکی نہیں۔ بس جن تبدیلیوں کی ضرورت ہو اس کے بغیر یہ اچھی سرمایہ کاری نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
’اتنی زیادہ دولت ایلون مسک کو خطرناک دشمن بناتی ہے‘
تجزیہ: جیمز کلیٹون، نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی
ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کو خریدنے کی بولی کی تصدیق کے علاوہ ٹوئٹر نے اس معاملے پر عوامی سطح پر کافی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
لیکن اس ’اعلیٰ سطحی‘ اجلاس کی تفصیلات سامنے آئیں ہیں، جہاں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو پراگ اگروال کے سامنے کئی سوال اٹھائے گئے۔
یہ تفصیلات اس تجویز کے علاوہ کچھ نہیں بتاتی ہیں کہ ٹوئٹر انتظامیہ اس پیشکش کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ پراگ اگروال نے کہا ہے کہ وہ تفصیلات کے بارے میں بات نہیں کر سکتے لیکن کمپنی کو ’یرغمال‘ نہیں بنایا جا رہا۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ اس میٹنگ کا مقصد کمپنی ملازمین کو اس بارے میں مزید تفصیلات دینا تھا لیکن ایک ورکر نے مجھے بتایا کہ میٹنگ کے بعد وہ لوگ مزید الجھ گئے ہیں۔
’ہمیں کسی قسم کی وضاحت کا احساس نہیں ہوا۔‘
ٹوئٹر بورڈ کو نہ صرف اس پیشکش کی اہمیت کو جانچنا ہو گا بلکہ اسے مسترد کرنے کی صورت میں کپمنی کو ہونے والے نقصان کا بھی اندازہ کرنا لگانا ہو گا۔ ظاہری طور پر ایلون مسک اپنی آفر مسترد ہونے پر پلان بی رکھتے ہیں۔
ٹوئٹر کی مالیت اربوں ڈالر ہو سکتی ہے لیکن ایلون مسک کے سامنے یہ کچھ نہیں جن کی اپنی دولت کی مجموعی مالیت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اتنی زیادہ دولت انھیں ایک خطرناک دشمن بناتی ہے۔












