سوشل میڈیا، وہ دہائی جس نے زندگیاں بدل دیں: فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کے عروج کی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ گذشتہ دہائی میں ایک چیز جو دنیا بھر میں لوگوں کی ذاتی زندگیوں، معاشرتی رویوں، حکومتی پالیسیوں اور سیاست پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوئی ہے وہ ہے سوشل میڈیا۔
عرب سپرنگ کے نام سے مشہور مشرقِ وسطیٰ میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں سے لے کر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی تک، شام کی خانہ جنگی سے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے عروج و زوال تک، اور امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات سے لے کر کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل تک جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے بڑے واقعات سامنے آئے اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں، وہیں سوشل میڈیا خود بھی ان 10 برسوں میں ارتقا کے مراحل سے گزارا۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک بڑی تبدیلی سنہ 2010 کے بعد سے دیکھنے میں آئی جب پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور ریاستی اداروں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔
اس سے پہلے تک پاکستان کی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کے بجائے روایتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی اپنے پیغامات کا پرچار کرتی تھیں لیکن گذشتہ دہائی نے سب کچھ بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاں بڑی سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں نے اپنے مقصد کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا، وہیں ایسی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور گروہوں جنھیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر عموماً جگہ نہیں ملتی تھی، نے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک رسائی حاصل کی جن میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور فیمینسٹ تحریکیں سرِفہرست ہیں۔
آئیں جائزہ لیتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان میں کیا کیا بدلا، اور خود سوشل میڈیا ویب سائٹس پر کیا کیا بدلا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیاست دانوں اور عسکری اداروں کی سوشل میڈیا انٹری
جلسہ گاہوں اور ٹیلی ویژن سکرینوں کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی سیاست کا پرچار کرنے میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان نے سب پر سبقت حاصل کی جب سنہ 2010 میں انھوں نے فیس بک اور ٹوئٹر آفیشل اکاؤنٹس کا آغاز کیا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے تک پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا پر مقبولیت کی بے تاج بادشاہ بھی رہی تاہم سنہ 2013 کے عام انتخابات کے نتائج تحریک انصاف کے حمایتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئے جب سوشل میڈیا پر پارٹی کی مقبولیت کی جھلک انتخابات کے نتائج میں نظر نہیں آئی۔
لیکن اس کے بعد ہی سے ہر سیاسی پارٹی کا اپنی سوشل میڈیا ٹیم بنانے اور اپنی حمایت میں ٹوئٹر ٹرینڈ چلانے کا رواج پڑا جو آج تک بہت سوں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ جب لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے بھی پاکستانی فوج اور اس کی پالیسوں کا عوام میں مثبت تاثر قائم کرنے کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے جس کا ثبوت ہیش ٹیگ شکریہ راحیل شریف اکثر سوشل میڈیا کی زینت بنا رہنا تھا۔ اور اب 'نظریاتی سرحدوں' کی سوشل میڈیا کے ذریعے دفاع کی پالیسی کا مشن موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے سنبھال لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
میڈیا پر عائد پابندیوں کے پیش نظر بہت سے پاکستانی صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی خبریں دینے اور اپنی رائے کے اظہار میں عافیت جانی، اور یہی وجہ ہے کہ آج کل متعدد خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ٹیلی ویژن اور اخبارات تک پہنچتی ہیں۔
متعدد صحافی ٹی وی پروگرام کے بجائے اپنے یوٹیوب چینل میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں جن میں طلعت حسین اور نجم سیٹھی جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔
قندیل بلوچ سے حریم شاہ تک
یہ دہائی سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے بھی یاد کی جائے اور ان میں سرِفہرست ہیں پاکستان کی سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ، جنھیں سوشل میڈیا نے جہاں شہرت دلوائی وہیں ان کے سکینڈل نے انھیں متنازع شحصیت بھی بنا دیا جو بالآخر ان کی موت کی وجہ بنا۔
آج کل ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ یکے بعد دیگرے آنے والے سکینڈلز کے باعث سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہQandeel Baloch FB
سوشل میڈیا پچھلے دس سالوں میں کیسے بدلا؟
جسے خرید نہیں سکتے اس کی نقل کر لو
سنہ 2004 میں جب مارک زکربرگ نے سماجی رابطوں کے لیے فیس بک متعارف کروائی تو یہ واقعی ایک ایسا انوکھا آئیڈیا تھا جسے دنیا بھر میں بہت پذیرائی ملی لیکن سنہ 2010 کے بعد سے فیس بک میں آنے والی جدت اور نئے فیچرز اس کے حریفوں کی مرہونِ منت تھے۔
فیس بک نے سوشل میڈیا کی دنیا اور اپنے مقابلے میں آنے والی ہر مشہور ایپ کو یا تو خرید لیا اور جسے وہ خریدنے میں ناکام رہے اس کے مشہور فیچرز کی ڈنکے کی چوٹ پر نقل کی اور اسے فیس بک کا حصہ بنا لیا۔
فیس بک صارفین کو ایک بڑی تبدیلی سنہ 2011 میں دیکھنے کو ملی جب فیس بک وال کو فیس بک ٹائم لائن میں تبدیل کر دیا گیا۔ فیس بک ٹائم لائن اس لیے متعارف کروائی گئی تاکہ صارفین اپنی وال پر موجود پوسٹ کو باآسانی تلاش کر سکیں۔
اسی سال واٹس ایپ کی عوام میں مقبولیت دیکھتے ہوئے فیس بک نے اپنے ان باکس کو ایک علیحدہ پراڈکٹ کی شکل دے کر واٹس ایپ کی طرز پر ’فیس بک میسنجر‘ متعارف کروا دیا۔
ستمبر 2012 میں اسلام سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کی بنا پر یوٹیوب پر پاکستان میں پابندی عائد کر دی گئی جس کے بعد چند پاکستانیوں نے پراکسی سرورز کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کی تو کچھ نے اس کی پاکستانی نقل پر اکتفا کیا۔
امریکہ کے کیون سسٹروم اور مائک کریگر نے جب تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے والی ایپ انسٹاگرام اکتوبر 2010 میں متعارف کروائی تو وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ایپ راتوں راتوں اتنی مقبول ہو جائے گی۔ صرف ایک سال میں اس کے صارفین ایک کروڑ تک جا پہنچے۔ نوجوانوں اور خاص طور پر خواتین میں انسٹاگرام کی مقبولیت کے بعد فیس بک نے بھی اس میں دلچسپی دکھائی اور سنہ 2012 میں اسے بھی خرید لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بس پھر کیا تھا انسٹاگرام، انسٹاگرام نہ رہا اور منی فیس بک بن گیا، اور سنہ 2013 میں انسٹاگرام میں لمبے کیپشن، ان باکس میسیجز بھیجنے جسے فیچر متعارف کروا دیے گئے۔
ادھر ستمبر 2011 میں ریلیز ہونے والی سنیپ چیٹ نوجوانوں کی دلچسپی کا مرکز بن گئی۔ سنیپ چیٹ سٹوریز اور چند گھنٹوں بعد خود بخود ڈیلیٹ ہو جانے والی چیٹ جیسے فیچرز نوجوانوں میں مقبولیت کی وجہ بنے۔ سنیپ چیٹ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے فیس بک نے اس کو خریدنے کے لیے تین ارب ڈالر کی قیمت لگا دی لیکن اس کے بانی ایون شپیگل نے اس کو رد کر دیا۔
جب وہاں دال نہ گلی تو اس کے اگلے سال ہی فروری 2014 میں فیس بک نے واٹس ایپ 19 ارب ڈالر کے عوض خرید لیا۔
دوسری جانب اپنی منفرد چوکور یا پولرائڈ سائز کی تصاویر کے لیے پہچانے جانے والی انسٹاگرام نے سنہ 2015 میں چوکور سائز کو خدا حافظ کہا اور صارفین کو اجازت دی کہ وہ ہر سائز کی تصویر اور ویڈیو اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔
ان سب تبدیلیوں کے دور میں بھلا ٹوئٹر کیسے پیچھے رہ سکتا تھا؟
مارچ 2015 ٹوئٹر نے پیری سکوپ متعارف کروایا جس کے ذریعے کبھی بھی کوئی بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے لائیو ویڈیو سٹریمنگ کر سکتا تھا۔
فیس بک بھی اس میں پیچھے نہ رہا اور اگست 2015 میں فیس بک لائیو متعارف کروا ڈالا۔ اسی سال ٹوئٹر نے پول سوالات کا آپشن بھی متعارف کروایا جہاں صارفین کی کسی بھی موضوع پر رائے شماری کروانا آسان ہو گیا۔
سنہ 2016 میں انسٹاگرام کا پولرائڈ کیمرے والا لوگو تبدیل کر کے نیا رنگین لوگو متعارف کروایا گیا۔ اسی سال فیس بک نے حریف کمپنیوں کا آئیڈیا کاپی کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سنیپ چیٹ کی طرز پر انسٹا سٹوریز متعارف کروا دیں اور اس کے بعد سنہ 2017 میں فیس بک اور واٹس ایپ میں بھی سٹوریز کا آپشن متعارف کروا دیا گیا۔
سنہ 2016 ہی وہی سال تھا جب پاکستان کی عوام کو ایک بار پھر یوٹیوب تک رسائی حاصل ہو گئی جب گوگل نے پاکستان کے لیے اس کا خصوصی ورژن متعارف کروایا اور حکومت پاکستان نے بالآخر تین سال بعد اس پر سے پابندی اٹھا لی۔ 2016 میں ہی واٹس ایپ صارفین کو ویڈیو کالنگ کی سہولت بھی میسر ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک طویل عرصے تک فیس بک صارفین شائع ہونے والے مواد پر اپنی ناپسندیدگی کا ظاہر کرنے لیے ’ڈس لائک‘ بٹن کا مطالبہ کرتے رہے جسے بالآخر فیس بک نے 2017 میں ’مان لیا۔‘
اگرچہ فیس بک نے ’ڈس لائک‘ تو متعارف نہ کروایا مگر صارفین کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے پانچ نئے آپشن ’ایموجی ری ایکشنز‘ کی صورت میں ضرور دے دیے۔
اسی سال ٹوئٹر نے بھی اپنی ٹویٹ میں حروف کی حد 140 سے بڑھانے کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا کر دیا اور ایک ٹوئٹ میں حروف کی حد دگنی کرتے ہوئے 280 کر دی۔
سوشل میڈیا تنازعات کی زد میں
سنہ 2016 میں امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی اور یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں غیر متوقع نتائج سامنے آنے کی بعد سوشل میڈیا کے متنازع کرداروں پر انگلیاں اٹھنے لگیں، جسے 2018 میں سامنے آنے والے ڈیٹا سکینڈل کیمبریج انالیٹیکا نے درست ثابت کر دیا۔
اس کے بعد فیس بک کے بانی مارک زکربرگ 10 اپریل 2018 کو پہلے امریکی سینیٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کروانے پیش ہوئے اور اس کے بعد 23 اکتوبر 2019 میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارک زکربرگ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فیس بک اشتہارات کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی گئیں جبکہ اس کے پلیٹ فارم کو سیاسی پروپیگنڈا کے ذریعے عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن انھوں نے سیاسی اشتہارات پر پابندی یا اس میں دی گئی معلومات کی چھان بین کرنے سے انکار کر دیا۔
البتہ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے باعث فیس بک نے سنہ 2019 میں ہونے والے برطانیہ اور انڈیا کے انتخابات کے لیے ’فیس بک لائبریری‘ متعارف کروائی۔ اس کا مقصد عوام کی معلومات تک رسائی تھی تاکہ وہ یہ جان سکے کہ ہر سیاسی جماعت نے فیس بک اشتہارات پر کتنا خرچہ کیا۔
مگر اسی دوران ٹوئٹر نے نومبر 2019 میں اپنے پلیٹ فارم پر سیاسی اشتہارات شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی، جس کا اعلان ٹوئٹر کے بانی جیک ڈورسی نے نومبر میں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کیا۔
اسرائیلی کمپنی این ایس او کی جانب سے تیار کیے گئے ایک سافٹ ویئر کے ذریعے انڈین اور سعودی حکومت کی جانب سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے واٹس ایپ کی پیغامات کی جاسوسی کرنے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
ادھر سوشل میڈیا کی دنیا پر راج کرنے والی امریکی کمپنیوں کے لیے پہلی بار ایک چینی کمپنی ٹک ٹاک ایک بڑی حریف کی طور پر ابھری جب اس نے مختصر انٹرٹینمنٹ ویڈیو بنانے والی ایپ میوزیکلی 2018 میں خرید لی اور اس کے نتیجے میں یہ سال 2019 میں دنیا میں سب سے زیادہ ڈاون لوڈ اور استعمال ہونے والی ایپ بن گئی۔
ٹک ٹاک کی شہرت میں جہاں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں اس پر پابندی کے مطلبات اور ٹک ٹاکرز پر ہونے والی تنقید بھی طول پکڑتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رواں سال اپریل میں انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کی ایک عدالت کے فیصلے بعد ٹک ٹاک کو چائلڈ پورنوگرافی اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں تک رسائی میں مدد دینے کے الزامات کے باعث اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم پابندی کے اطلاق کے ایک ہفتے بعد ہی اسی عدالت کی جانب سے اٹھا لیا گیا اور ٹک ٹاک بحال کر دی گئی۔
امریکی اداروں کی جانب سے بھی اس ایپ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان میں بھی اس پر وقتاً فوقتاً پابندی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ رواں برس اگست میں ایڈووکیٹ ندیم سرور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایک پٹیشن داخل کی گئی تھی جس میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
۔










