ششی تھرور: ’تیرا میرا رشتہ کیا، لاالہ الااللہ‘ کے نعرے پر انڈین سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیریکیڈ کے پاس کہیے- لا الہ الا اللہ
لاٹھی چارچ ہو تو کہیے - لا الہ الا اللہ
آنسو گیس میں بھی کہیے - لا الہ الا اللہ
میرا تیرا رشتہ کیا - لا الہ الااللہ
یہ وہ نعرے ہیں جو مبینہ طور پر جنوبی انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف ایک مظاہرے میں لگائے گئے اور ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
’لا الہ الا اللہ‘ عربی زبان میں اسلام کا بنیادی جز ہے جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہوتا ہے۔
معاملہ شاید اتنا طول نہ پکڑتا اگر سابق وزیر اور کانگریس پارٹی کے رہنما ششی تھرور اس حوالے سے ایک متنازع ٹویٹ نہ کرتے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا: ’ہندوتوا انتہا پسندی کے خلاف ہماری لڑائی میں اسلامی انتہاپسندی کو بھی کوئی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ جو لوگ شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں وہ ایک ہمہ گیر ہندوستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہم کسی بھی قسم کی مذہبی سخت گیری کو اپنی تکثیریت/تنوع کی جگہ نہیں لینے دیں گے۔‘
ششی تھرور کے اس ٹویٹ کے بعد ’ششی تھرور‘، ’ہندتوا‘ اور ’اسلام‘ کے ہیش ٹیگز سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/ShashiTharoor
ششی تھرور کی اس ٹویٹ کے جواب میں پاکستانی مصنفہ عائشہ صدیقہ نے لکھا: ’کون کہتا ہے 'لا الہ الا اللہ' انتہا پسندی ہے۔ کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ عام مسلمان کیا کہتا ہے۔ انتہا پسندی سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس بحث میں شامل ہوتے ہوئے اینی انڈین نامی صارف نے لکھا: ’پھر 'جئے شری رام' کیوں نہیں؟ اسے زیادہ تر میڈیا اور دانشوروں کے نزدیک فرقہ پرستی کیوں کہا جاتا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
اجیت ہیگڑے نے لکھا: 'تو کیا اب اسلام کا اصل نعرہ ہی انتہا پسندی کی علامت بن گیا ہے؟'

،تصویر کا ذریعہTwitter
کاشف قریشی نے ٹویٹ کیا: ’تیرا میرا رشتہ کیا۔ ہندوستان، ہندوستان۔ نعرہ یہ ہونا چاہیے۔ یہ ہندوستان اور اس کی ہمہ گيریت کے بارے میں ہے جہاں لاکھوں غیر مسلم سی اے اے اور این آر سی کے خلاف بے تکان مظاہرے میں مسلمانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
انڈیا ریسیسٹ نامی ایک صارف نے ٹویٹ کیا: ’اس ملک میں لوگ بھاری پتھر اٹھانے سے پہلے بھی 'جئے بجرنگ بلی' کہتے ہیں اور کوئی بھی اسے فرقہ وارانہ نہیں کہتا ہے۔ آج مسلمانون کو حاشیے پر پھینک دیا گیا ہے۔ اگر مطالبات سیکولر ہیں تو اپنی حوصلہ افزائی کے لیے مذہبی نعرے لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس ٹویٹ کے جواب میں ششی تھرور نے لکھا: ’کسی کو تکلیف پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں صرف یہ واضح کر رہا ہوں کہ یہ جدوجہد ہندوستان کے لیے ہے۔ اسلام یا ہندو مت کے لیے نہیں۔ یہ ہمارے آئینی اقدار کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنی تکثیریت کو بچانا ہے۔ یہ ہندوستان کی روح کو بچانا ہے۔ یہ ایک مذہب کے مقابلے میں دوسرے مذہب کے بارے میں نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
احتجاج اور تحریکوں میں مذہبی نعرے ہمیشہ تنازعے کا باعث بنتے ہیں۔ مغربی بنگال میں جئے شری رام کے نعرے کی سیاست اس کی حالیہ مثال ہے۔
پچھلے کئی دنوں سے ہندوستان کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور ان مظاہروں کے دوران بالکل مختلف اور انتہائی تخلیقی نعروں کا استعمال دیکھا جا رہا ہے۔












