انڈیا: شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف دلی میں مظاہرے، پولیس نے 50 طلبہ کو رہا کر دیا

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں رات گئے تک مقامی پولیس کے صدر دفتر کے باہر احتجاج ہوا جس کے بعد پولیس نے اتوار کو گرفتار کیے گئے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے 50 طلبہ کو رہا کر دیا ہے۔ پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر سے اب احتجاج ختم کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کی شام دلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے کچھ طلبہ کو پرتشدد مظاہرے کرنے اور شہری بسوں سمیت شیگر شہری املاک کو آگ لگانے کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔
تاہم پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس اتوار کی شام جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں زبردستی داخل ہوئی اور ملک میں شہریت کے نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے آنسو گیس اور ڈنڈوں کا استعمال اس وقت کیا جب طلبہ نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا اور املاک کو آگ لگا دی تھی۔ یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔۔
ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
- اتوار کی شام متھرا روڈ پر جامعہ نگر سے ملحق علاقے میں دلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کو آگ لگا دی گئی ہے
- عینی شاہدین کے مطابق لوگ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے
- ہجوم اور پولیس کے درمیان مظاہرے کے دوران تصادم ہوا
- کئی بسوں، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی گئی
- جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف پروکٹر نے کہا کہ پولیس نے زبردستی کیمپس میں داخل ہو کر طلبا پر تشدد کیا ہے
- جامعہ کے طلبا نے بھی تشدد کی مخالفت کی ہے


،تصویر کا ذریعہANI
اتوار کی شام کو مظاہرین نے دلی سے متھرا جانے والی سڑک پر کئی بسوں کو آگ لگا دی۔
بسوں میں لگی ہوئی آگ بجھانے کے لیے جب فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آئیں تو مظاہرین نے ان پر بھی حملہ کیا۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں دلی کے اوکھلا، جامعہ اور کالندی کنج علاقوں میں ہوئیں۔
خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق مظاہرین بشمول جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے کالندی کنج روڈ پر شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
میڈیا اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جامعہ کے طلبا تشدد میں ملوث تھے۔
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے ان اطلاعات پر گفتگو کرتے ہوئے جامعہ یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ تشدد یونیورسٹی کے طلبا کے مظاہرے کے دوران نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے مظاہرے کے دوران ہوا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ تشدد کے واقعات کے بعد دلی پولیس جامعہ کے کیمپس کے اندر داخل ہوگئی ہے اور اس نے یونیورسٹی کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔
جامعہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اپنے طلبا سے اپیل کی ہے کہ وہ مقامی رہنماؤں کے منعقد کردہ مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
دلی کے وزیرِ اعلیٰ اروِند کیجریوال نے مظاہرین سے احتجاج کے دوران پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طرح کے تشدد کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہANI
عینی شاہدین کیا کہتے ہیں؟
عینی شاہدین کے مطابق جامعہ کے طلبا نے شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف ایک احتجاجی مارچ منعقد کیا تھا۔
جب یہ ریلی نیو فرینڈز کالونی کے کمیونٹی سینٹر کے قریب پہنچی تو پولیس نے انھیں روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔
کچھ طلبا وہاں بیٹھے تھے اور ان میں جامعہ کے علاوہ دیگر اداروں کے طلبا بھی تھے۔
پولیس کی رکاوٹیں دیکھ کر طلبا کا گروہ دوسرے راستے سے آشرم کی جانب بڑھنے لگا۔

یہ راستہ جنتر منتر کے مقام تک جاتا ہے مگر یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ طلبا کا یہ گروہ جنتر منتر جا رہا تھا یا کہیں اور۔
اس کے بعد طلبا نے آشرم کے نزدیک دلی فرید آباد روڈ کو بند کر دیا۔
پولیس نے سڑک کھلوانے کے لیے طلبا پر لاٹھی چارج کیا جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے۔

اس دوران پولیس نے دوسری جانب موجود مظاہرین پر پتھر بھی پھینکے۔
اس کے بعد پولیس نے وہاں پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

اس سے قبل جامعہ کے طلبا نے 13 دسمبر کو بھی مارچ کرنے کی کوشش کی تھی مگر پولیس نے انھیں رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا تھا۔
تقریباً دو سے تین دن سے پولیس نے نیو فرینڈز کالونی کے کمیونٹی سینٹر کے پاس رکاوٹیں لگا رکھی ہیں۔
دوسری طرف دلی میٹرو ریل کارپوریشن نے سکھ دیو وہار میٹرو سٹیشن کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دیے ہیں۔
اس کے علاہ میٹرو نے آشرم میٹرو سٹیشن پر گیٹ نمبر تین بھی بند کی دیا ہے۔

’لوگوں میں بہت پریشانی دکھائی دیتی ہے، سب ڈرے ہوئے ہیں‘
دلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مرزا اے بی بیگ کے مطابق جنوبی دلی میں آشرم اور سکھدیو وہار کے درمیان متھرا روڈ بند کر دی گئی ہے جس سے مسافروں کو اپنی منازل پر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق ’جب میں 4:30 بجے دفتر سے نکلا تو مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے۔ لیکن جب متھرا روڈ پر پہنچا تو دیکھا کہ بہت ٹریفک جام ہے۔ ساری بسیں رکی ہوئی ہیں اور ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔
جب میں آشرم کے قریب پہنچا تو دیکھا پولیس نے متھرا روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، دور سے دھوئیں کے بادل اور آگ کے شعلے دیکھے جا سکتے تھے۔
وہاں سے گاڑیوں کو دوسری جانب رنگ روڈ پر موڑ دیا گیا جہاں سے چلتے ہوئے، اوکھلا سبزی منڈی ہوتے ہوئے جب میں جامعہ کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ سکھ دیو وہار میٹرو سٹیشن بھی بند کر دیا گیا ہے۔

یہاں پر پولیس نے مجھے روکا اور راستہ بند ہونے کی وجہ بتانے سے انکار کرتے ہوئے بس اتنا کہا کہ ’جامعہ کے طالبعلموں کے خلاف پولیس کی کارروائی چل رہی ہے۔`
یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کارروائی میں کیا ہو رہا ہے لیکن میں پولیس کو راہگیروں پر ڈنڈے برساتے دیکھ سکتا تھا۔
مجھے گھر تک پہنچنے کے لیے سنسان راستوں سے ہوتے ہوئے پانچ کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑا اور اس دوران کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر میں آنسو گیس اور فائرنگ کی آوازیں سن سکتا تھا۔
پھر جب میں اپنے علاقے میں پہنچا تو دیکھا کہ لوگ سڑکوں پر ہیں۔ علاقے میں صورتحال بہت کشیدہ ہے اور تمام دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔ لوگوں میں بہت پریشانی دکھائی دیتی ہے۔ سب ڈرے ہوئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
نامہ نگار کے مطابق جامعہ کے طلبہ نے کہا ہے کہ وہ پر امن مظاہرے کر رہے تھے ان کا کسی قسم کے تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے ڈی ٹی سی بسوں کو نذر آتش کیا اور فائر ٹینڈر کو نقصان پہنچایا۔
ایک مقامی وقار احمد نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ انھوں نے اس علاقے میں اتنا بڑا جلوس پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وقار احمد کے مطابق ’وہ سب لوگ پر امن تھے۔‘
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد سہراب نے نامہ نگار مرزا بیگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی کارروائی میں ایک طالبعلم کی ہلاکت ہو گئی ہے۔ پروفیسر محمد سہراب کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘











