#CitizenshipAmendmentBill2019: شہریت کا متنازع ترمیمی بِل انڈین سپریم کورٹ میں چیلنج

آسام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنشہریت ترمیم بل کے متعارف کروائے جانے کے بعد انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے ہیں

انڈیا کی پارلیمان سے منظور ہونے والے شہریت کے متنازع ترمیمی بل کو ملک کی عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

سیاسی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ نے غیرمسلم غیرقانونی تارکینِ وطن کو انڈیا کی شہریت دینے کے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ اسے غیرقانونی قرار دیا جائے۔

اس بل میں بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان کی چھ اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ) سے تعلق رکھنے والے افراد کو انڈین شہریت دینے کی تجویز ہے۔

لوک سبھا کے بعد انڈیا کی راجیہ سبھا نے بدھ کو اس بل کی منظوری دی تھی اور صدر کے دستخط کے بعد اب یہ قانون بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کے مطابق بل سے ان لوگوں کی مدد کی جائے گی جنھیں مذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم کا سامنا رہا جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ اس کی منظوری سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو گا۔

سپریم کورٹ میں اپنی درخواست میں انڈین یونین مسلم لیگ نے کہا ہے کہ یہ بل برابری، بنیادی حقوق اور زندہ رہنے کے حق سے متعلق آئین کی شقوں سے متصادم ہے۔

اس بل کے متعارف کروائے جانے کے بعد انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے ہیں جس کے بعد گوہاٹی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور دس اضلاع میں انٹرنیٹ بھی بند ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل ہے۔

آسام میں مظاہروں کے بعد وزیراعظم مودی نے وہاں کے عوام کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں تسلی دلائی ہے تاہم نامہ نگاروں کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے عوام تک وزیراعظم کا پیغام پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

جمعرات کو گوہاٹی میں لوگ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر نکلے ہیں۔

آسام کے علاوہ بنگلہ دیش سے ملحقہ انڈین ریاست تریپورہ میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں جہاں فوج کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ آسام میں تعیناتی کے لیے بھی فوج تیار ہے۔

،ویڈیو کیپشنآسام میں احتجاجی مظاہرے

شمال مشرقی انڈیا میں مظاہرے کیوں؟

آسام اور تریپورہ میں عوام کو خدشہ ہے کہ اس قانون کے منظور ہونے کے بعد ان ریاستوں میں بنگلہ دیش سے آنے والے پناہ گزینوں کا سیلاب آ جائے گا۔

ریاست آسام میں شہریت کے ترمیمی بل کی مخالفت یہ کہتے ہوئے کی جا رہی ہے کہ اس سے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

آسام معاہدہ ریاست میں رہنے والوں کی سماجی و سقافتی اور زبان سے متعلق شناخت کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ معاہدہ 15اگست 1995 کو انڈین حکومت اور آسام تحریک کے رہنماؤں کے درمیان ہوا تھا۔

یہ معاہدہ آسام میں چھ برس تک چلنے والی تحریک کے بعد ہوا تھا جس کی رہنمائی طالب علم کر رہے تھے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کی شناخت کر کے انہیں ملک سے باہر نکالا جائے۔ آسام معاہدے کے مطابق مہاجرین کو ملک میں رہنے کی قانونی حیثیت دیے جانے کی تاریخ 25مارچ 1971ہے، لیکن شہریت کے ترمیمی بل میں اسے 31دسمبر 2014 مانا گیا ہے۔

آسام میں تمام مخالفت اس تاریخ کے بارے میں ہے۔ شہریت کے ترمیمی بل میں نئی کٹ آف ڈیٹ کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے بھی شہری درجہ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی جو 1971 کے بعد اور 31 دسمبر 2014 سے پہلے آسام میں داخل ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ آسام ہی وہ ریاست ہے جہاں اگست میں 20 لاکھ افراد کا نام شہریت کے رجسٹر سے نکالا گیا تھا۔ اب اس بل کو بھی شہریت کے رجسٹر سے جوڑا جا رہا ہے تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز ایسے افراد کی فہرست ہے جو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ ملک میں 24 مارچ 1971 تک آئے تھے

اگست میں جب اس رجسٹر کو اپ ڈیٹ کیا گیا تھا تو بہت سے بنگالی ہندوؤں کے نام بھی فہرست سے نکالے گئے تھے اور اب شہریت کے ترمیمی بل کی مدد سے ایسے غیرمسلم افراد کو تحفظ مل سکتا ہے جو ملک بدری یا گرفتاری کے خدشے کا شکار ہیں۔

اسد الدین

،تصویر کا ذریعہLSTV

،تصویر کا کیپشنرکنِ پارلیمان اسد الدین اویسی نے بل کی مخالفت کی اور اس کی کاپی پھاڑ دی

ناقدین کیا کہتے ہیں؟

بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون بی جے پی کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے اور انڈیا کی سکیولر شبیہ کو بدلنے کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

انڈیا کی 700 سے زیادہ ممتاز شخصیات نے جن میں قانون دان، وکلا، دانشور اور اداکار بھی شامل ہیں، ایک بیان میں اس بل کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بظاہر حکومت کا مقصد ’انڈین معاشرے میں بےچینی پیدا کرنا ہے۔‘

دیگر بہت سے افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ اس بل میں صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیرمسلم تارکینِ وطن کا ہی ذکر کیوں ہے جبکہ انڈیا کے دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی انھیں مذہبی امتیاز کا سامنا ہے۔

تمل اداکار کم ہاسن نے کہا ہے کہ سری لنکا سے آنے والے تارکینِ وطن کو یہ سہولت کیوں نہیں دی جا رہی۔

انڈین پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی کئی جماعتوں اور سیاستدانوں نے بھی انھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔

مسلمان رکنِ اسمبلی اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ یہ قانون ’ہٹلر کے قوانین سے زیادہ برا اور مسلمانوں کو بےریاست بنانے کی سازش ہے۔‘

کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ اس بل کی جو بھی حمایت کرے گا وہ ’انڈیا کی بنیاد کو تباہ کر رہا ہو گا۔‘

تاہم بی جے پی کے رہنماؤں اور حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف نہیں۔

وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہندوستانی مسلمان محفوظ ہیں اور ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔'