’جرابلس پر شامی باغیوں نے قبضہ کر لیا‘

،تصویر کا ذریعہAP

شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترکی کی سرحد کے قریب واقع قصبے جرابلس پر سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم کروا لیا ہے۔

شامی باغیوں کا، جنھیں ترک اور امریکی فضائیہ کی معاونت حاصل تھی، کہنا ہے کہ جرابلس پر اب ان کا قبضہ ہے۔

بدھ کو شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کے سلسلے میں ترکی کے ایک درجن کے قریب ٹینک سرحد عبور کر کے شامی قصبے جرابلس میں داخل ہوئے تھے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ترکی میں موجود ملیشیا دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے والی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنخیال کیا جا رہا ہے کہ ترکی میں موجود ملیشیا دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے والی ہے

فوجی ذرائع نے ترکی میڈیا کو بتایا کہ جرابلس کے علاقے میں 70 اہداف کو تباہ کیا گیا۔

ترکی نے آپریشن کا آغاز جرابلس پر شدید بمباری سے کیا جس میں توپخانے اور ترک فضائیہ کا استعمال کیا گیا جس نے 12 ہوائی حملے کیے۔

ترک فوج کے مطابق علاقے پر 224 راکٹ داغے گئے جبکہ ترک فضائیہ نے بمباری بھی کی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد دولت اسلامیہ اور کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنانا ہے۔

شامی سرحد کے قریب واقع قصبے غازی عنتب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوین کے مطابق ترکی نے اس ہفتے علاقے میں موجود شامی کرد دستوں پر گولہ باری کی تاکہ وہ دولت اسلامیہ کے جانے کے بعد پیدا ہونے خلا کو نہ پر کر سکیں۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کا صفایا کر دیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کا صفایا کر دیا جائے گا

نامہ نگار کے مطابق ترکی کو خدشہ ہے کہ کرد کہیں اس کے سرحد کے قریب ایک خودمختار علاقہ نہ قائم کر لیں جس سے ترکی اندر کرد علیحدگی پسند تحریک کو تقویت ملے۔

ترکی نے یہ آپریشن ایک ایسے وقت شروع کیا ہے جب بدھ کے روز امریکی نائب صدر ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔

یہ 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے کسی بھی مغربی اہلکار کا ترکی کا سب سے اعلیٰ سطح کا دورہ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر کے مطابق ٹینکوں کے بعد کچھ چھوٹی گاڑیاں بھی سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہوئیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان گاڑیوں میں ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغی جنگجو سوار تھے۔