ترکی: پولیس پر حملوں میں 12 ہلاک، 219 زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی کے مشرقی شہروں میں پولس پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 219 زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وان اور الازیغ میں پولیس سٹیشنوں میں ہونے والے دھماکوں میں چار پولیس اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
پانچ اہلکار اور ایک گارڈ بتلس صوبے میں ہلاک ہوئے جب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
* <link type="page"><caption> ترکی میں دو دھماکے آٹھ افراد ہلاک، </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160810_turkey_twin_blasts_zh" platform="highweb"/></link>
ترک حکام کرد اکثریتی خطے سے باہر ہونے والے ان حملوں کا الزام کرد مسلح گروہ پی کے کے پر عائد کرتی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کبھی نہیں رکے گی۔‘
ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناطر میں عمارت سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ایمبولینسز زخمیوں کو ہسپتال لے جا رہی ہیں۔
بدھ کو بھی ایرانی سرحد کے قریبی شہر وان میں پولیس سٹیشن کے قریب بم حملہ ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حملے میں تین افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ ہفتے بھی پولیس کے قافلوں پر ہونے والے حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پی کے کے کمانڈر نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ترکی کے خلاف ایک انداز کی جنگ کا آعاز کیا گیا ہے۔‘
فرات نیوز ایجنسی کے مطابق پی کے کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ’اس جنگ کو ہر جگہ پھیلایا جائے گا بنا پہاڑوں، دیہاتوں اور شہروں میں تفریق کیے۔‘







