ترکی میں چھ سکیورٹی اہلکار بم حملے میں ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
پانچ ترک فوجی اور ایک سپیشل فورسز کا پولیس افسر ترکی کے جنوبی مشرقی صوبے مردین میں ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
ترکی کی ڈوگان نیوز ایجنسی کے مطابق کرد باغی جماعت پی کے کے اس کی ذمہ دار ہے۔
یہ فوجی نصیبن شہر میں پی کے کے کے خلاف ایک فوجی آپریشن میں حصہ لے رہے تھے۔ اس شہر میں مارچ کے وسط سے کرفیو نافذ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پی کے کے نے نصیبن میں خندقیں کھود رکھیں تھیں اور شہر کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔
یہ حملہ جنوب مشرقی شہر دیاربکر میں ایک پولیس بس پر ہونے والے کار بم دھماکے کے دو دن بعد کیا گیا ہے جس میں سات پولیس اہلکار ہلاک اور 27 دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔
ہفتے کے روز ترک حکام نے بتایا کہ انھوں نے دیاربکر بم حملے کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کا تعلق پی کے کے کے عسکری دھڑے سے ہے۔
ڈوگان کے مطابق ملزم، جس کا نام اے سی بتایا گیا ہے، وہی شخص ہے جسے ایک سفید کار سے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد میں جب پولیس بس اس کے پاس سے گزری تو یہ کار دھماکے سے پھٹ گئی۔



