استنبول میں فٹبال میچ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ

،تصویر کا ذریعہAP
ترک حکام نے بتایا ہے کہ استنبول کی دو بڑی فٹبال ٹیموں کے درمیان ایک میچ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
استنبول کے گورنر کے دفتر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’قابلِ یقین خفیہ معلومات کے تجزیے کے بعد کیا گیا ہے۔
جب میچ کے التوا کا اعلان کیا گیا اس وقت فٹبال کے شائقین فینرباہجے اور گیلاتاساری کے درمیان ہونے والا میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیئم پہنچ چکے تھے۔
یہ التوا اس وقت عمل میں آیا ہے جب حکام نے استنبول شہر کے ڈیڑھ کروڑ باسیوں پر بار بار زور دیا ہے کہ وہ دھماکے کے بعد سے روزمرہ کے معمول کے مطابق زندگی گزاریں۔
وزیرِ داخلہ ایفکین علا نے اسی دوران بم دھماکے کے ممکنہ مرتکب فرد کا نام جاری کیا ہے۔ ان کا نام محمد اوزترک ہے اور وہ 1992 میں غازیان تیپ میں پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ترکی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو استنبول میں حملہ کرنے والے خودکش بمبار کا تعلق خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے تھا۔
وزیرِ داخلہ ایفکن اعلیٰ کے بقول خود کش حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے اور اس کا نام محمد اوزترک تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اب تک پانچ افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سنیچر کا وحشیانہ حملہ سنہ 1992 میں غازی عینتاب میں پیدا ہونے والا محمد اوزترک نے کیا تھا اور اس کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے۔‘
اس موقعے<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/03/160317_turkey_ankara_bombing.shtml" platform="highweb"/></link> پر وزیرِ داخلہ نے ملک کے سات صوبوں میں سکیورٹی کے اقدامات اور کرفیو کے نفاذ کا ارسرِ نو جائزہ لینے کے کا اعلان بھی کیا۔
ترکی کے شہر استنبول میں حکام کے مطابق سنیچر کو ایک سیاحتی مقام پر خود کش حملے میں 4 افراد ہلاک اور 36 زحمی ہوے تھے۔

ہلاک کے ہونے والوں اسرائیل اور امریکہ کی دہری شہریت رکھنے والے دو افراد کے علاوہ ایک ایرانی شہری بھی شامل ہے۔
زخمیوں میں بھی 11 اسرائیلی شہری شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی لاشیں اتوار کو واپس بھیجی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا اسرائیل نے اپنے شہریوں سے ترکی کا سفر کرنے سے گریز کرنے کو کہا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ اتوار کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے اور کرد عسکریت پسند تنظیم ٹی اے کے نے اس حملے کے ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس کے بعد ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور انھیں ’گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔‘
ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں سے ملک کی افواج کا عزم مزید مضبوط ہی ہوتا ہے۔
کرد باغیوں نے حالیہ مہینوں میں ترک علاقے میں کئی حملے کیے ہیں جبکہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بھی انقرہ کو نشانہ بنا چکی ہے۔







