استنبول کے سیاحتی علاقے میں دھماکہ

ترکی کے شہر استنبول میں سلطان احمد علاقے میں دھماکے کے بعد کے مناظر۔

استنبول میں مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سلطان احمد کے علاقے میں شہر کی تاریخی نیلی مسجد جامعہ سلطان احمد کے قریب دھماکہ ہوا۔
،تصویر کا کیپشناستنبول میں مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سلطان احمد کے علاقے میں شہر کی تاریخی نیلی مسجد جامعہ سلطان احمد کے قریب دھماکہ ہوا۔
ترکی میں حکام کے مطابق استنبول میں سیاحت کے لیے مقبول اس علاقے میں ایک زور دار دھماکے میں کم ازکم دس افراد ہلاک ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنترکی میں حکام کے مطابق استنبول میں سیاحت کے لیے مقبول اس علاقے میں ایک زور دار دھماکے میں کم ازکم دس افراد ہلاک ہو گئے۔
سلطان احمد کے علاقے اور اس کے قریب واقع تاریخی نیلی سجد جامعہ سلطان احمد کا شمار دنیا کے معروف سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسلطان احمد کے علاقے اور اس کے قریب واقع تاریخی نیلی سجد جامعہ سلطان احمد کا شمار دنیا کے معروف سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مطابق سلطان احمد کے علاقے میں ہونے والے خودکش بمبار کے روابط شام سے تھے۔
،تصویر کا کیپشنترک صدر رجب طیب اردوغان کے مطابق سلطان احمد کے علاقے میں ہونے والے خودکش بمبار کے روابط شام سے تھے۔
استنبول کے گورنر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناستنبول کے گورنر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی ’خطے میں دہشت گرد تنظیموں کا سرفہرست ہدف‘ ہے اور ان کا ملک ’ان سب کے خلاف یکساں طور پر لڑ رہا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنحملے کی مذمت کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی ’خطے میں دہشت گرد تنظیموں کا سرفہرست ہدف‘ ہے اور ان کا ملک ’ان سب کے خلاف یکساں طور پر لڑ رہا ہے۔‘
استنبول کےگورنر کے مطابق دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشناستنبول کےگورنر کے مطابق دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
جرمنی کی وزارت خارجہ کے مطابق انھیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جرمن شہری بھی اس دھماکے میں نشانہ بنے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجرمنی کی وزارت خارجہ کے مطابق انھیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جرمن شہری بھی اس دھماکے میں نشانہ بنے ہیں۔
ترکی میں گذشتہ مہینوں میں ہونے والے دھماکوں کا ذمہ دار حکومت کی طرف سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ٹھہرایا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنترکی میں گذشتہ مہینوں میں ہونے والے دھماکوں کا ذمہ دار حکومت کی طرف سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ٹھہرایا گیا تھا۔