ترکی کی شامی علاقے میں دولتِ اسلامیہ پر بمباری

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی نے غازی عنتب شہر میں خودکش دھماکے کے بعد شام کے شمالی علاقے جرابلس میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق غازی عنتب میں اس وقت 1,500 کے قریب شامی باغی موجود ہیں اور یہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے احکامات کے انتظار میں ہیں۔
خیال رہے کہ ترکی کی جانب سے دولتِ اسلامیہ پر بمباری سنیچر کو غازی عنتب قصبے میں شادی کی تقریب پر خودکش حملے کے بعد کی گئی ہے۔
اس خودکش حملے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے اکثریت بچوں کی تھی۔
اس کے علاوہ ترکی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی کرد ملیشیا وائی پی جی کے زیرِ قبضہ علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
غازی عنتب قصبے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کے مطابق یہ کارروائی اس خود کش حملے کے جواب میں کی جا رہی ہے جس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے دولتِ اسلامیہ کا ہاتھ تھا۔
ترکی نے اپنی سرحد کے اندر سے توپ خانے کے ذریعے شامی علاقے جرابلس اور منبج میں دولتِ اسلامیہ اور کرد ملیشیا وائے پی جی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
کرد جنگجو منبج میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم ٹی وی رپورٹوں کے مطابق ترکی نے اس علاقے میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کا صفایا کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ غازی عنتب شہر میں خودکش حملہ کرنے والے بمبار کی عمر کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ خودکش بمبار کی عمر 12 سے 14 برس تھی تاہم ترک وزیراعظم کے مطابق خودکش بمبار کی عمر کا تعین عینی شاہدین کی مدد سے کیا گیا تھا لیکن ابھی حتمی طور پر ابھی واضح نہیں ہو سکا۔
غازی عنتب میں خودکش حملے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ خودکش بمبار کی عمر 12 سے 14 سال کے درمیان تھی۔ ترک صدر نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
غازی عنتب شام کی سرحد کے قریب واقع ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہاں دولتِ اسلامیہ کے خفیہ گروہ سرگرم ہیں۔







