ترکی: شادی کی تقریب پر حملے میں ہلاکتیں

ترکی کے شہر غازی عنتب میں شادی کی ایک تقریب پر حملے میں درجنوں ہلاک و زخمی

سنیچر کی شب ترکی کے شہر غازی عنتب میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنیچر کی شب ترکی کے شہر غازی عنتب میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق غازی عنتاب شامی سرحد کے قریب واقع ہے تاہم زیادہ وحشت ناک بات یہ ہے کہ ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق غازی عنتاب شامی سرحد کے قریب واقع ہے تاہم زیادہ وحشت ناک بات یہ ہے کہ ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے شہر کی ایک گلی میں ہونے والی شادی کی تقریب کو اس وقت نشانہ بنایا جب لوگ رقص کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے شہر کی ایک گلی میں ہونے والی شادی کی تقریب کو اس وقت نشانہ بنایا جب لوگ رقص کر رہے تھے۔
غازی عنتب شام کی سرحد سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں بہت سی یونیورسٹیوں کے طالب علم رہائش پذیر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغازی عنتب شام کی سرحد سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں بہت سی یونیورسٹیوں کے طالب علم رہائش پذیر ہیں۔
یاد رہے کہ مئی میں اس شہر میں ایک خود کش بمبار نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیاد رہے کہ مئی میں اس شہر میں ایک خود کش بمبار نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔
ترک صدر کی جانب سے جاری بیان میں اس حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ پر عائد کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترک صدر کی جانب سے جاری بیان میں اس حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ پر عائد کی گئی ہے۔
بیان میں ترک صدر نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اور ’پی کے کے‘ کےکرد جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبیان میں ترک صدر نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اور ’پی کے کے‘ کےکرد جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
صدر طیب اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں کا مقصد ترکی کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کے درمیان تقسیم کے بیج بونا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر طیب اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں کا مقصد ترکی کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کے درمیان تقسیم کے بیج بونا ہے۔
صدر رجب طیب اردوغان نے دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر رجب طیب اردوغان نے دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کی ہے۔