چینی برآمدات میں کمی، عالمی معاشی خدشات میں اضافہ

ماہرین معاشیات جولائی سے ستمبر تک 6.8 فیصد شرح نمو کی توقع کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY

،تصویر کا کیپشنماہرین معاشیات جولائی سے ستمبر تک 6.8 فیصد شرح نمو کی توقع کر رہے تھے

جولائی کے مہینے میں چینی برآمدات میں مزید کمی آئی ہے جس کے بعد بین الاقوامی معیشت کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

برآمدات میں پیچھلے سال کی نسبت چار اعشاریہ چار فیصد کمی آئی ہے، جو معاشی ماہرین کی اندازے سے زیادہ ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس جون کی ماہ میں چینی برآمدات میں چار اعشاریہ آٹھ فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

اس کے ساتھ ملکی درآمدات میں بھی 12.8 فیصد کمی آئی ہے۔

چین کی میعشت کو بین الاقوامی معیشت کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ تازہ اعداد و شمار عالمی معیشت کی کارکردگی کا مظہر ہیں۔

گذشتہ 13 میں سے 12 مہینوں کے دوران چینی برآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

یورپ میں اشیائے ضرورت کی گرتی ہوئی قیمتوں، قرضوں کے بحران اور برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے کے بعد سے بین الاقوامی معیشت سست روی کا شکار ہے۔

امریکہ کی درآمدات اور برآمدات میں بھی کمی رپوٹ کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی درآمدات اور برآمدات میں بھی کمی رپوٹ کی گئی ہے

اوکسفرڈ یورنیورسٹی سے منسلک معیشت پر نظر رکھنے والی تنظیم ’ اوکسفرڈ اکنامکس‘ کے لیویز کیجس کے بقول ’ ہمیں توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی چینی اور بین الاقوامی تجارت سست روری کا شکار رہے گی۔‘

ادھر امریکہ کی درآمدات اور برآمدات میں بھی کمی رپوٹ کی گئی ہے۔

چینی معیشت کے بارے میں سامنے آنے والے یہ تازہ اعداد و شمار اگرچہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی برآمدات میں کمی آئی ہے لیکن ایک حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ رواں سال کے دوسرے عشرے میں ملک کی معیشت کا حجم بڑھا ہے۔

چین کے شماریات کے ادارے نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ پیچھلے تین ماہ کے دوران گذشتہ برس کی نسبت مجموعی ملکی پیداوار میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔