چین میں حصص کی قیمتیں مستحکم کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہXinhua

چینی حصص بازار میں حصص کی قیمتیں پچھلے ایک ماہ میں 30 فیصد تک گر چکی ہیں جو یقیناً سرمایہ کاروں اور حکومتوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

شنگھائی کمپوزٹ کو چین میں تمام حصص بازاروں میں کاروباری رجحانات کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے لیکن وہاں بدھ کے دن کو سرمایہ کاروں نے یوم سیاہ سے تعبیر کیا، کیوں کہ ایک روز میں حصص کی قیمتیں آٹھ فیصد تک گر گئی تھیں۔

اس کے برعکس اِسی برس کے آغاز میں چینی سٹاک مارکیٹیں ایشیا میں بہترین کاروبار کرنے والے بازاروں میں شامل تھیں۔

تو سوال یہ ہے کہ چین میں حصص کی قیمتیں ابتداً کیوں بڑھ رہی تھیں؟

بہت سے لوگ چینی سٹاک مارکیٹوں میں ادھار پیسوں کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کر رہے تھے جس سے قیمیتیں پچھلے ایک برس میں ڈیڑھ سو فیصد تک چڑھ گئی تھیں۔

آج چینی حصص بازاروں میں 85 فیصد سرمایہ کاروں کا تعلق مالیاتی شعبے سے نہیں بلکہ وہ عام لوگ ہیں جو حصص بازاروں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے والی سرکاری پالیسیوں سے ہمت پا کر اس میدان میں اترے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

سنہ 2010 کے بعد سے مارجن فنانسنگ کہی جانے والی سرکاری پالیسیوں کے باعث کم دولتمند افراد کے لیے سرمایہ کاری کی خاطرقرض حاصل کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

نتیجتاً آج کے چینی سماج میں سرمایہ کاری کرنا اور اِس کے بارے میں باتیں کرنا فیشن سا بن گیا ہے۔

لیکن تجزیہ کار اِس پر متفق ہیں کہ اس حوالے سے بہت زیادہ بھولپن پایا جاتا ہے اور لوگوں کا خیال تھا کہ حصص بازار صرف اور صرف اوپر ہی جا سکتے ہیں۔

لیکن یہی لوگ جس طرح اپنے دوستوں اور قرابت داروں کے اتباع میں سرمایہ کاری کر رہے تھے، اب اُنھی لوگوں کے پیچھے پیچھے نقصان اٹھا کر جا رہے ہیں۔ بھیڑچال کی یہ ذہنیت حصص بازار کے بہت تیز اتار چڑھاؤ میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے۔

طویل المدت سرمایہ کار گذشتہ ایک برس کے کمائے ہوئے منافع پر مطمئن ہوں گے، گو اُن میں سے بھی کچھ لوگوں کے لیے صورت حال مشکل ہوگی اور وہ حصص فروخت کررہے ہوں گے۔

لیکن کیا حصص بازاروں کی صورت حال چینی معیشت کی دوسری گہری خرابیوں کی عکاسی کر رہی ہے؟

بہت سے تجزیہ کاروں کے خیال میں حصص کی قیمتیں ضرورت سے زیادہ چڑھ گئی تھیں اور موجودہ صورت حال اُس کو صرف درست کر رہی ہے۔

موجودہ شدید مندی اور مجموعی اقتصادی صورت حال کے درمیان بظاہر کوئی تعلق بھی دکھائی نہیں دیتا کیونکہ گذشتہ ایک برس میں چینی معیشت کی شرحِ نمو کم ہوئی لیکن حصص بازار اوپر چڑھتے رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC CHINESE

اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو اگر سنہ 2008 کے معاشی بحران کی مانند اگر حصص بازار نہیں گرتے تو موجودہ صورت حال کی جڑیں خود سٹاک مارکیٹوں کے اپنے مسائل میں پیوست ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا حصص بازاروں کا بحران معیشت کے دوسرے حصوں تک بھی پھیلے گا؟

اِس بات کا امکان موجود ہے۔

اگر یہ پتہ چلا کہ چینی سرمایہ کار اپنا پیسہ بہت خطرناک اور سرکاری ضابطوں سے آزاد جگہوں پر لگا رہے تھے تو اس کا مجموعی اثر پڑ سکتا ہے۔ سات آٹھ برس پہلے امریکی حصص بازار بالکل اسی طرح نیچے آئے تھے اور عالمی اقتصادی بحران شروع ہو گیا تھا۔

لیکن امریکہ میں گھروں کے قرضے جتنے زیادہ تھے، اُس کے برعکس چینی حصص بازاروں کا تناسب ملکی معیشت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

حصص میں سرمایہ کاری اب بھی بڑی حد تک چینی شہروں تک محدود ہے اور بعض اندازوں کے مطابق موجودہ بحران سے پورے ملک میں صرف 15 فیصد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

ایسے میں حکومت حصص بازاروں کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟

چینی حکام نے کسی بھی کمپنی کے پانچ فیصد سے زیادہ حصص رکھنے والے سرمایہ کاروں کو آئندہ چھ ماہ تک حصص فروخت کرنے سے روک دیا ہے جبکہ بڑے سرمایہ کار اداروں نے بازار کو مستحکم کرنے کے لیے حصص خریدنے کے وعدے کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

عموما نئے اداروں میں سرمایہ کاروں کی زیادہ دلچسپی ہوتی ہے جس سے پرانی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر جاتی ہیں، اِس لیے ایسے حصص کا اجرا فی الحال روک دیا گیا ہے۔

اور چینی مرکزی بینک نے ایک ایسے بڑے سرکاری ادارے میں بڑی رقم لگانے کا اعلان کیا ہے جو مارجن ٹریڈنگ کرتا ہے۔ اِس طریقے میں بروکروں سے حصص خریدنے کے لیے ادھار لیے جاتے ہیں جس سے لوگوں کو مزید حصص خریدنے میں مدد ملتی ہے۔

کیا یہ سارے اقدامات موثر ثبت ہو رہے ہیں؟

بدھ تک تو چینی حکومت کے تمام اقدامات کے باوجود حصص کی قیمتیں صرف گر رہی تھیں لیکن جمعرات کا دن نسبتاً بہتر رہا۔ یہ اِس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ سرکاری اقدامات اثر دکھا رہے ہیں۔

ایک متعلقہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت کو فکرمند ہونا چاہیے؟

پچھلے دو برسوں سے چینی حکومت سٹاک مارکیٹوں اور اِن میں پیسہ لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔ یہ پالیسی دراصل قومی ترجیح تھی اور معاشی اصلاحات کا طریقہ بھی، جن کا مقصد یہ تھا کہ معیشت کو حکومت کے بجائے منڈی کی قوتوں پر انحصار کے قابل بنایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

اگر غیرتجربہ کار چینی سرمایہ کار اپنا نقصان ہوتا دیکھیں گے تو ناراضی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ موجودہ صورت حال پر چینی سرکاری میڈیا خاموش ہوتو ہو، سوشل میڈیا خاموش نہیں ہے۔

صدر شی جن پنگ اور اور وزیراعظم لی کیچیانگ دونوں کی مالیاتی ساکھ خطرے میں ہے۔

خودمختار خطے ہانگ کانگ کا حصص بازار بھی بجائے خود ایک سوال ہے۔

ہانگ کانگ کے برعکس، صرف چند بڑے سرمایہ کار اداروں کے سوا، غیرملکیوں کو چینی حصص بازاروں میں براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہے۔

اسی وجہ سے غیرملکی سرمائے کی طلبگار بڑی چینی کمپنیاں اپنے شیئرز کا اجرا ہانگ کانگ کی سٹاک مارکیٹ میں کرتی ہیں۔

اور یوں دیکھیں تو ہانگ کانگ کی سٹاک مارکیٹ کا تلاطم چینی حصص بازاروں کے بارے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی فکرمندی کی بھی عکاسی کر رہا ہے۔