چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے پاس مختف فنڈز میں تقریباً چار کھرب ڈالر زرِ مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اس لیے چین کے پاس خرچ کرنے کے لیے بہت رقم پڑی ہوئی ہے۔
مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حالیہ کمی کے باوجود بہت سے ترقی یافتہ ممالک سات فیصد ترقی کی شرح کا تو صرف خواب ہی دیکھتے ہیں۔
اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ دس برسوں میں بیرون ممالک میں سالانہ چینی سرمایہ کاری آٹھ گنا بڑھ کر 2013 میں 140 ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی۔
حیران کن طور پر 2014 میں اس میں معمولی سی کمی واقع ہوئی اور سال کے پہلے حصے میں گذشتہ سال کی نسبت کم سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی۔ اس کی بڑی وجہ توانائی کے منصوبوں میں کم سرمایہ کاری تھی۔
لیکن یہ کمی عارضی نظر آتی ہے اور اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ چین کی آبادی خصوصاً متوسط طبقے میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ چین کی وسائل کو استعمال کرنے کی بھوک بڑھتی رہے گی۔
گذشتہ دہائی میں امریکہ وہ ملک ہے جس کو چین سے سب سے زیادہ پیسہ ملا، اس سے قبل کی دہائی میں آسٹریلیا کو سب سے زیادہ پیسہ دیا گیا تھا۔
تاہم گذشتہ سال کے پہلے چھ ماہ میں چین نے برطانیہ میں امریکہ کے برابر ہی سرمایہ کاری کی اور 24 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے برطانیہ چین کا پسندیدہ ملک بنا جو کہ فرانس میں 11 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
چین نے ساری دنیا میں سرمایہ کاری کی ہے اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں لیکن افریقہ میں اس کی دلچسپی زیادہ رہی ہے۔ چین نے افریقہ کے 34 ممالک میں سرمایہ کاری کی ہے جس میں صرف نائجیریا میں ہی 21 ارب ڈالر لگائے گئے ہیں۔ ایتھوپیا اور الجیریا میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ جبکہ انگولا اور جنوبی افریقہ میں دونوں میں دس، دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کی صاف وجہ افریقہ کے قدرتی وسائل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری طرف جاپان کے ساتھ سیاسی تناؤ کی وجہ سے چین نے جتنے پیسے کی منگولیا میں (1.4 ارب ڈالر) سرمایہ کاری کی تقریباً اتنے ہی جاپان (1.6ارب ڈالر) میں لگائے۔ اس نے حال ہی میں دنیا کی سب سے طاقتور معیشتوں کی صف میں جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چین کو وسائل چاہییں، خصوصاً توانائی کی مانگ پورے کرنے کے لیے، جو کہ توقع ہے کہ 2050 تک تین گنا بڑھ جائے گی۔
اسی وجہ سے 2005 سے توانائی کے شعبے میں دوسرے شعبوں کی نسبت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ چین کی آبادی کے لیے جو اس وقت 1.4 ارب ہے، اس شعبے میں 400 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
تاہم گذشتہ برس توانائی اور ٹرانسپورٹ، پراپرٹی اور ٹیکنالوجی جیسے دیگر کئی شعبوں میں کم سرمایہ کاری کی گئی۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور اس میں زیادہ تر سرکاری کمپنیاں غالب ہوتی ہیں، سو اس عارضی خاموشی کا مطلب ہے کہ سرکاری سرمایہ کاری کم جبکہ نجی سرمایہ کاری زیادہ ہوئی۔
دھاتوں میں سرمایہ کاری بھی بہت اہم ہے کیونکہ ان کی تعمیراتی منصوبوں اور صنعتوں میں بہت ضرورت ہوتی ہے۔
چینی ریاست نے انفرادی کمپنیوں اور منصوبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، جن میں سے زیادہ تر توانائی کے شعبے میں ہیں۔
مثال کے طور پر سی این او او سی کو ہی لے لیں جس نے 2013 میں کینیڈا کی نیکسن پر 15 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔
توانائی اور وسائل کے علاوہ فائنانس یا مالیات میں بھی کافی زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے اور مورگن سٹینلے اور سٹینڈرڈ بینک چینی سرمائے کے سب سے بڑے وصول کنندہ بنے ہیں۔
اس کے علاوہ چین نے آئی بی ایم سے لے کر بارکلیز، فورڈ اور جنرل موٹرز تک میں سرمایہ کاری کی ہے۔







