تربیت کے لیے 60 ’خوشی کے ذمہ دار افسران‘ منتخب

،تصویر کا ذریعہap
متحدہ عرب امارات نے درجنوں اہلکاروں کو خوشی کی سائنس کی تربیت حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
’ایمیریٹس 247 ‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ملک کے پہلے 60 ’خوشی اور مثبت سوچ رکھنے والے افسروں‘ کو ستمبر میں بیرون ملک بھیجا جائے گا۔
ان 60 اہلکاروں کو 200 قومی اور مقامی امیدواروں میں سے چنا گیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو امریکہ اور برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایک ’مشکل‘ پروگرام سے تربیت حاصل کرنی ہو گی جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا ’مائنڈ فُلنیس سینٹر‘ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کا مشہور ’گریٹر گوڈ سائنس سینٹر‘ شامل کیے جائیں گے۔
ان کی تربیت میں انھیں خوش رہنے کے طور طریقوں کے ساتھ ساتھ خوشی کو پھیلانے کے بارے میں بھی سکھایا جائے گا۔
قومی اخبار نے انھیں ’مثبت سوچ رکھنے کے علمبردار‘ قرار دیا ہے۔
حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے خوش رہنے کی مہم شروع کی تھی اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے گذشتہ فروری میں وزیر مملکت برائے مسرت کے قلمدان سنبھالنے کے لیے پہلی وزیر بھی منتخب کی تھی۔
عہود الرومي نے خوشی کی وزارت سنبھالی ہے اور کہتی ہیں کہ وہ امید کرتی ہیں کہ یا نیا پروگرام یو اے ای کو دنیا کے سب سے خوش رہنے والے ممالک کی فہرست میں لے آئے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن وزیر اعظم صرف خوشی پھیلانے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
اس سال کی ابتدا میں انھوں نے ٹوئٹر کے ذریعے کاباینہ کے ایک اور غیر معمولی عہدے کا اشتہار دیا تھا جس کے مطابق وفاقی کابینہ میں نوجوانوں کی آواز کے ترجمان کی تالاش ہے جوحالیہ گریجویٹ ہو اور 25 کی عمر سے کم ہو۔
اُس وقت ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو آواز دینے کا فیصلہ ’منطقی‘ تھا کیونکہ وہ عرب معاشروں کے ’مستقبل کے لیے ہماری امید‘ ہیں۔







