بغداد دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 281 ہوگئی

،تصویر کا ذریعہEPA
عراق میں حکام نے گذشتہ اتوار کو ہونے والے خود کش بم دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کر دیا ہے۔
عراق کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں جو بغداد میں شیعہ اکثریت والے علاقے کرادہ ضلع میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہوا تھا اس میں 281 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
اس سے قبل عراقی حکام کے مطابق <link type="page"><caption> ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 تھی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160706_baghdad_death_toll_sharp_increase_rh.shtml" platform="highweb"/></link>۔
خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اس خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
یہ دھماکہ سنہ 2003 کے بعد عراق پر امریکی حملے کے بعد سب سے خوفناک حملہ تھا۔
دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نےدو سال قبل عراق کے مغربی اور شمالی حصوں میں وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تاہم سرکاری دستوں نے بہت سا علاقہ اب خالی کرا لیا ہے۔
ان علاقوں میں دولت اسلامیہ کو حالیہ ناکامیوں کے بعد انھوں نے رد عمل میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا شروع کر دیا ہے۔ اس دھماکہ کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ فلوجہ شہر کے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد رد عمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اتوار کو ہونے والے دھماکے میں بارود سے بھرے ایک ٹرک کو رمضان میں عید کے رش کے دوران ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہوا جب یہ خریداروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارتِ صحت کے ایک ترجمان احمد الرودائنی نے برطانوی خبررساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ کئی ایسے لوگ جو لاپتہ تھا اب انھیں ہلاک ہونے والوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ہسپتالوں اور پولیس کے حکام نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اب بھی دھماکے کے ارد گرد کے علاقے اور ملبے سے انسانی اعضا مل رہے ہیں۔
اس دھماکے میں دوسو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے 23 زخمی اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔







