برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
شمال مشرقی انگلینڈ، ویلز اور مڈلینڈز میں زیادہ تر ووٹر یورپی یونین سے الگ ہونے کے حامی نظر آئے جبکہ لندن، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے زیادہ تر ووٹروں نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔
٭ <link type="page"><caption> برطانوی ریفرینڈم: گنتی جاری، ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160623_brexit_referendum_zis" platform="highweb"/></link>
ریفرینڈم کے نتائج کے سٹاک مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے سنہ 1985 کے بعد سے پہلی مرتبہ پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔
جمعرات کو ہونے والے ریفرینڈم میں ووٹنگ کی شرح 71.8 فیصد رہی اور تین کروڑ سے زیادہ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

،تصویر کا ذریعہPA
یہ برطانیہ میں 1992 کے الیکشن کے بعد ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔
انگلینڈ میں لندن سے باہر جبکہ ویلز میں اکثریت نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ 43 برس کے ساتھ کے بعد یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن جائے گا تاہم علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں ہے۔ اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژ نے اسے برطانیہ کا کا ’یومِ آزادی‘ قرار دیا ہے جبکہ یونین کا حصہ رہنے کے حامی کیمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’تباہ کن‘ ہے۔
نائجل فراژ نے جو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے گذشتہ 20 سالوں سے مہم چلا رہے تھے، وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حامی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ادھر سکاٹ لینڈ کی وزیرِ اول نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ اس ریفرینڈم سے ’یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام اپنا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔‘ سکاٹ لینڈ میں تمام 32 لوکل کونسلز نے ای یو کا حصہ رہنے کی حمایت کی ہے۔
اس ریفرینڈم کے نتائج کو 28 رکنی یورپی تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سخت تر دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے ریفرینڈم کے نتائج کو ’یورپ اور برطانیہ کے لیے ایک مایوس کن دن قرار دیا ہے۔‘








