برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ

سکاٹ لینڈ میں تمام 32 لوکل کونسلز نے ای یو کا حصہ رہنے کی حمایت کی

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنسکاٹ لینڈ میں تمام 32 لوکل کونسلز نے ای یو کا حصہ رہنے کی حمایت کی

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

شمال مشرقی انگلینڈ، ویلز اور مڈلینڈز میں زیادہ تر ووٹر یورپی یونین سے الگ ہونے کے حامی نظر آئے جبکہ لندن، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے زیادہ تر ووٹروں نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔

٭ <link type="page"><caption> برطانوی ریفرینڈم: گنتی جاری، ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160623_brexit_referendum_zis" platform="highweb"/></link>

ریفرینڈم کے نتائج کے سٹاک مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے سنہ 1985 کے بعد سے پہلی مرتبہ پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔

جمعرات کو ہونے والے ریفرینڈم میں ووٹنگ کی شرح 71.8 فیصد رہی اور تین کروڑ سے زیادہ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژ نے اسے برطانیہ کا کا ’یومِ آزادی‘ قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنیو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژ نے اسے برطانیہ کا کا ’یومِ آزادی‘ قرار دیا ہے

یہ برطانیہ میں 1992 کے الیکشن کے بعد ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

انگلینڈ میں لندن سے باہر جبکہ ویلز میں اکثریت نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

برطانیہ 43 برس کے ساتھ کے بعد یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن جائے گا تاہم علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں ہے۔ اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژ نے اسے برطانیہ کا کا ’یومِ آزادی‘ قرار دیا ہے جبکہ یونین کا حصہ رہنے کے حامی کیمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’تباہ کن‘ ہے۔

نائجل فراژ نے جو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے گذشتہ 20 سالوں سے مہم چلا رہے تھے، وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حامی ہیں۔

علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں اور اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعلیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں اور اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے

ادھر سکاٹ لینڈ کی وزیرِ اول نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ اس ریفرینڈم سے ’یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام اپنا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔‘ سکاٹ لینڈ میں تمام 32 لوکل کونسلز نے ای یو کا حصہ رہنے کی حمایت کی ہے۔

اس ریفرینڈم کے نتائج کو 28 رکنی یورپی تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سخت تر دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے ریفرینڈم کے نتائج کو ’یورپ اور برطانیہ کے لیے ایک مایوس کن دن قرار دیا ہے۔‘