یورپ میں رہیں یا نہیں؟ ووٹروں کو قائل کرنے کی آخری کوششیں

،تصویر کا ذریعہEPA

یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے پر برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم کی مہم کے آخری روز سیاستدان عوام کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے بھرپور زور لگا رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون، جیریمی کوربن اور ٹم فیرن برطانیہ میں ریلیوں سے خطاب میں اپنا موقف پیش کر رہے ہیں کہ یورپی یونین میں رہنا برطانیہ کے لیے بہتر ہے اور محفوظ رہے گا۔

دوسری جانب بورس جونسن اور نائجل فراج یورپی یونین سے نکل جانے پر زور دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو ہونے والے ریفرنڈم میں چار کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

برطانوی عوام سے پوچھا جائے گا کہ کیا برطانیہ کو یورپی یونین میں رہنا چاہیے یا نہیں۔

اس ریفرنڈم کے حوالے سے ہونے والی مہم کے بارے میں بی بی سی کی سیاسی ایڈیٹر لورا کونزبرگ کا کہنا ہے کہ مقابلہ نہایت سخت ہے لیکن برطانوی سیاست کو اس ریفرنڈم نے کئی طرح سے تبدیل کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock

اس ریفرنڈم کی مہم بدھ کی رات کو ختم ہو گی اور رہنما ان ووٹرز کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جنھوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون سابق وزیر اعظم سر جان میجر اور لیبر جماعت کے سابق رہنما ہیریئٹ ہرمن کے ہمراہ برسٹل پہنچے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فیصلہ ناقابل واپسی ہو گا اور اگر برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تو یہ فیصلہ واپس نہیں ہو سکے گا۔

’آپ اڑتے جہاز سے چھلانگ مار کر واپس کوک پٹ سے جہاز میں داخل نہیں ہو سکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین کو چھوڑنا برطانیہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہو گا جس سے معیشت کو اتنا نقصان ہو گا جس کو بیان نہیں کیا جا سکتا، نوکریوں پر اثر پڑے گا۔

ڈیوڈ کیمرون کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر میں اس پوری مہم کو ایک لفظ میں بیان کروں تو وہ لفظ ہو گا ’اکٹھے‘۔ ہم اکٹھے دہشت گردی اور موسمی تبدیلی کا مقابلہ بہتر طور پر کر سکیں گے۔ اپنی معیشت کو بہتر بنا سکیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین میں رہنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یورپی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں یورپی یونین میں آزدانہ نقل و حرکت میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے اور کُل نقل مکانی میں کمی لانا غیر حقیقت پسندانہ خواہش نہیں ہے۔

تاہم یورپی کمیشن کے صدر نے ڈیوڈ کیمرون کی اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین سے باہر نکلنے کا مطلب باہر نکلنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے باہر نکلنے کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو ’اس کے بعد کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے‘۔

دوسری جانب لندن کے سابق میئر نے جو پورے برطانیہ میں جلسے کر رہے ہیں لوگوں سے استدعا کی کہ ’اپنے ملک میں یقین رکھیں‘ اور اس موقعہ کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

’یہ بہت اہم موقع ہے، بہت سے لوگ فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ملک پر یقین رکھیں گے اور عوام کی قابلیت پر یقین رکھیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مکمل طور پر نیا تعلق بنایا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ جمہوریت کے لیے آواز اٹھائی جائے اور یورپ کے لاکھوں افراد ہم سے متفق ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ناکام ہوتی اور خراب ہوتی یورپی یونین سے علیحدہ ہوا جائے۔‘