جاسوسی کے مقدمے میں محمد مرسی کو عمر قید

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر کے اسلام پسند سابق صدر محمد مرسی کو جاسوسی کے مقدمے کی سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
وہ ان کئی ملزمان میں سے ایک تھے جو قطر کو دستاویزات فراہم کرنے کے الزامات کا دفاع کررہے تھے۔
محمد مرسی کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا انھیں جاسوسی کے الزام سے تو بری کر دیا گیا ہے لیکن انھیں ایک غیر قانونی تنظیم کی سربراہی کے لیے مجرم قرار دیا گيا ہے۔
اس مقدمے میں شامل چھ دوسرے افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے جن میں الجزیرہ کے دو صحافی بھی شامل ہیں۔
فیصلے کے وقت یہ دونوں صحافی عدالت میں موجود نہیں تھے اور انھیں ان کی غیر حاضری میں موت کی سزا سنائی گئي۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال رہے کہ محمد مرسی کو سنہ 2013 میں ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا۔ اس سے قبل دوسرے عدالتی معاملات میں انھیں پہلے سے ہی عمر قید اور سزائے موت دونوں سنائی جا چکی ہیں۔
بہرحال ان سزاؤں کے خلاف ابھی بھی اپیل کی جاسکتی ہے۔
یہ سزائیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے مصری عدلیہ کی سخت تنقید کے درمیان سنائیں گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہا جاتا ہے کہ عوامی مظاہروں کے نتیجے میں برطرفت کی جانے والی حکومت کے بعد دسیوں ہزار افراد کو مصری حکام نے قید و بند کی سزائیں دی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر مرسی کی اخوان المسلمون کے حامی ہیں۔
الجزیرہ نے بتایا ہے کہ ان کے عربی زبان کی خبروں کے سابق سربراہ ابراہیم ہلال اور گذشتہ سال تک نیوز کے لیے کام کرنے والے اعلی صبلان موت کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ رسد نیوز نیٹ ورک کے ایک اخوان المسلمون حامی صحافی کو بھی سزائے موت سنائي گئي ہے۔
مصری حکام نے الجزیرہ پر اخوان المسلمون اور محمد مرسی کے حامی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ قطر اخوان المسلمون کی حمایت کرتا ہے اور وہاں کی حکمراں خاندانی جماعت نیوز چینل کو پیسے دیتی ہے۔
الجزیرہ کے تین صحافیوں کو غلط خبر نشر کرنے کے لیے سنہ 2013 میں جیل ہوئی تھی۔ ان میں ایک بی بی سی کے سابق نامہ نگار تھے۔ لیکن بین الاقوامی طور پر اس کے خلاف شور برپا کرنے پر ان تینوں کو رہا کر دیا گيا ہے۔







