مصری صدر نے الجزیرہ کے دو صحافیوں کو معاف کر دیا

تینوں صحافیوں پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتینوں صحافیوں پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے رہے ہیں

مصرکے صدر نے الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں میں سے دو کو معاف کر دیا ہے جنھیں ’جھوٹی خبریں پھیلانے‘ کے الزام پر مجرم قرار دیا گیا تھا اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

صدر عبدالفتح السیسی نے کینیڈا کے شہری محمد فہمی اور مصر کے باہر محمد کے علاوہ 98 دوسرے قیدیوں کو بھی معاف کیا ہے۔

لیکن معاف کیے جانے والے 100 قیدیوں کی فہرست میں محمد فہمی اور باہر محمد کے ساتھی آسٹریلوی پیٹر گریسٹا کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔گریسٹا کو گذشتہ فروری میں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

تینوں قیدیوں کو گذشتہ ماہ ایک عدالت نے ان الزامات پر مجرم قرار دینے بعد تین سال قید کی سزا سنائی تھی جو ناقدین کے مطابق بنیاد تھے۔

ان تینوں صحافیوں پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔

صدر السیسی کے اس فیصلے کی کوئی توجیہ نہیں دی گئی ہے لیکن یہ فیصلہ ان کے نیویارک کے دورے سے ایک دن قبل کیا گیا ہے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کریں گے۔ ان کا یہ فیصلہ عید الاضحیٰ سے پہلے کیا گیا ہے۔

صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ عدالتی عمل کے ختم ہونے پر وہ الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔