’غیر ملکی حکومتوں کی تنقید مصر کو قبول نہیں ہے‘

جولائی 2014 میں بھی ان تینوں صحافیوں کو سزائیں سنائی گئی تھیں۔ لیکن رواں سال جنوری میں ان کی سزائیں واپس لے لی گئی تھیں اور فروری میں انھیں مقدمے کی سماعت تک کے لیے آزاد کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجولائی 2014 میں بھی ان تینوں صحافیوں کو سزائیں سنائی گئی تھیں۔ لیکن رواں سال جنوری میں ان کی سزائیں واپس لے لی گئی تھیں اور فروری میں انھیں مقدمے کی سماعت تک کے لیے آزاد کر دیا گیا تھا

مصر نے الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں کو قید کی سزا سنائے جانے پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہزاروں صحافی مکمل آزادی سے کام کر رہے ہیں۔

مصر کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مصر میں ہزاروں صحافی مکمل آزادی سے کام کر رہے ہیں، (اس لیے) مصری عدالت کے سنیچر کے فیصلے کے خلاف غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے وہ مصر کو قبول نہیں ہے۔

مصری حکومت نے قاہرہ میں برطانوی سفیر جان کیسن کو ان کے تنقیدی بیان کے بعد دفترِ خارجہ میں طلب کر لیا ہے۔ فیصلے کے بعد گذشتہ روز برطانوی سفیر نے کہا تھا کہ کسی ملک کے استحکام کی بنیاد غیر پائیدار نہیں ہونی چاہیے جو کہ لوگوں کے حقوق کو غضب کرے اور آزادی اظہار رائے اور ذرائع ابلاغ کی آزادی کو نقصان پہنچائے۔

یاد رہے کہ مصری عدالت کی جانب سے اخوان المسلمین کی معاونت کے الزام میں الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں کو قید کی سزا سنائے جانے پر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے بعد امریکہ بھی شدید تنقید کر چکا ہے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ’انتہائی مایوس کن اور فکرمندی‘ کی بات ہے۔

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرح امریکہ نے بھی مصر پر زور دیا ہے کہ وہ اس ’فیصلے کو درست‘ کرے۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم مصر کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس فیصلے کے ازالے کے لیے تمام دستیاب اقدامات لے، (کیونکہ) یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو اس آزادی اظہار کی نفی کرتا ہے جو استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔‘

’چاہے ان کی رائے غیر مقبول ہو یا آپ بے قینی کا سبب بنے، اس کے باوجود ذائع ابلاغ کا یہ حق کہ وہ واقعات کی تحقیق کریں، ان کی خبر دیں اور ان پر تبصرہ کریں کسی بھی آزاد معاشرے اور اس کی جمہوری ترقی کے لیے ضروری ہے۔‘

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت دو مرتبہ کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعدالت نے اس مقدمے کی سماعت دو مرتبہ کی تھی۔

دوسری جانب آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جُولی بشپ کا کہنا تھا کہ انہیں صحافیوں کو دی جانے والی سزا پر ’مایوسی‘ ہوئی ہے۔

سنیچر کو عدالت نے الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں پیٹر گریسٹا، مصری نژاد کینیڈین شہری محمد فہمی اور مصر کے باہر محمد کو ’جھوٹی خبریں پھیلانے‘ کے الزام میں تین، تین سال قید کی سزا سنا دی تھی۔عدالت نے اس مقدمے کی سماعت دو مرتبہ کی تھی۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ نے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مصر میں آزادی اظہار پر پابندی کے مترادف ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صحافیوں کے خلاف سزا کو ختم کر کے انھیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیٹر گریسٹا نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے پر انھیں صدمہ ہوا ہے اور یہ زیادتی ہے جبکہ الجزیرہ ٹی وی نے فیصلے کو آزادی

صحافت پر ایک اور دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔

ان تینوں صحافیوں پر کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتے رہے ہیں

مصری نژاد کینیڈین شہری محمد فہمی اور مصر کے باہر محمد فیصلے کے وقت عدالت میں موجود تھے۔

آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا کو اس ہی سال ملک بدر کیا جا چکا ہے جبکہ غائبانہ طور پر ان کو اس مقدمے میں دوبارہ شامل کر لیا گیا تھا۔

انسانی حقوں کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو ’مضیکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’الجزیرہ کے تینوں صحافیوں کے خلاف سزا سنانے کا فیصلہ انصاف کی توہین ہے اور اس نے مصر میں آزاد اظہار رائے کو ختم کر دیا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطی کے ڈائریکٹر فلپ لوتھر نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ مصر میں دو سماعتوں کے دوران انصاف کا مذاق اڑایا گیا اور ان میں سے دو صحافی اب قید کاٹیں گے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مصر کے حکام سے کہا ہے کہ وہ محمد فہمی کو کینیڈا بھجوانے میں اُن کی مدد کریں۔

مصر کا کہنا ہے کہ اُس نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈوان شروع کر رکھا ہے تاکہ ملک میں استحکام آ سکے۔

جولائی 2014 میں تینوں صحافیوں کو سزائیں سنائی جا چکی تھیں جن میں گریسٹا کے ساتھ فہمی کو سات سال جبکہ محمد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

الجزیرہ چینل کے صحافیوں کی گرفتاری پر صحافی حلقوں اور تظیموں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا
،تصویر کا کیپشنالجزیرہ چینل کے صحافیوں کی گرفتاری پر صحافی حلقوں اور تظیموں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا

لیکن رواں سال جنوری میں ان کی سزائیں واپس لے لی گئی تھیں اور فروری میں انھیں مقدمے کی سماعت تک کے لیے آزاد کر دیا گیا تھا۔

ہفتے کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ تینوں افراد لائسنس یافتہ صحافی نہیں تھے اور قاہرہ کے ایک ہوٹل سے کام کر رہے تھے۔

انھوں نے گریسٹا اور فہمی کو تین تین سال کے سزا سنائی ہے جبکہ محمد کو چھ ماہ کے اضافے کے ساتھ تین سال چھ ماہ کی سزا سنائی ہے۔

ادھر تینوں صحافیوں کے وکلا متوقع طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

عدالت کے باہر اپنے بیان میں محمد فہمی کی وکیل امل کلونے نے صدر السیسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان صحافیوں کو معاف کر دیں۔