جرمنی نے الجزیرہ کے صحافی کو رہا کر دیا

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ احمد منصور کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنالجزیرہ کا کہنا ہے کہ احمد منصور کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں

جرمنی میں حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ الجزیرہ کے گرفتار صحافی احمد منصور کو رہا کر دیا گیا ہے۔

الجزیرہ چینل کے مطابق ادارے کی عربی سروس سے وابستہ احمد منصور نامی صحافی کو جرمنی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب انھوں نے برلن سے قطر جانے والی پرواز پر سوار ہونے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ مصر کی ایک عدالت نےگذشتہ برس احمد منصور کے خلاف تشدد کے الزام کے تحت ان کی غیر حاضری میں انھیں 15 برس قید کی سزا سنائی تھی۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ احمد منصور کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

الجزیرہ کے نمائندے حارث ادلونی کا کہنا تھا کہ ’ہم جرمنی کی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ احمد منصور پر اب کوئی الزام نہیں ہے۔

احمد منصور کے وکیل پیٹرک یوئبنر کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف اب جرمنی میں کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئےکہا: ’میرے خیال میں یہ بالکل صحیح فیصلہ ہے۔‘

اس سے پہلے جرمنی کی حکومت کہہ چکی ہے کہ مصر کی جانب سے احمد منصوری کو ان کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

جرمنی کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جرمنی کی حکومت نے کئی بار مصر میں قانون کی بالادستی پر سوال اٹھائے ہیں اسی لیے احمد منصور کے بارے میں شکوک کی گنجائش ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ظاہر ہے کہ کسی بھی شخص کو جرمنی سے کسی ایسے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا جہاں اسے سزائے موت کا خطرہ ہو۔

احمد منصور، اخوان المسلمین کے دو اراکین اور ایک مذہبی مبلغ پر الزام ہے کہ 2011 میں صدر حسنی مبارک کے خلاف قاہرہ کے تحریر چوک میں مظاہروں کے دوران انھوں نے ایک وکیل پر تشدد کیا تھا۔

اے پی کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو میں وکیل پر تشدد ہوتا تو نظر آ رہا ہے تاہم اس ویڈیو میں احمد منصور موجود نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ احمد منصور نے بعد میں حملہ آوروں کا انٹرویو کیا۔

اس سے قبل صحافی احمد منصور نے دورانِ حراست اپنے ویڈیو پیغام میں اس واقعے کو ’غلط فہمی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ معاملہ بہت جلدی حل ہو جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات بالکل مضحکہ خیز ہے کہ جرمنی جیسا ملک مصر جیسی آمرانہ حکومت کی درخواست کی حمایت کرے گا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔