مصر: الجزیرہ کے دو صحافیوں کو رہا کر دیا گیا

محمد فہمی کے رشتے داروں نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کو ایک بھیانک خواب سے تعمیر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمحمد فہمی کے رشتے داروں نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کو ایک بھیانک خواب سے تعمیر کیا ہے۔

مصری عدالت کی جانب سے الجزیرہ چینل سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں محمد فہمی اور باہر محمد کی ضمانت کی منظوری کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے جمعرات کو اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کے آغاز پر ان کی درخواستِ ضمانت منظور کی تھی جس کے بعد دونوں کی رہائی جمعے کو عمل میں آئی ہے۔

ان کے تیسرے ساتھی آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا پہلے ہی رہائی پانے کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں تاہم عدالت نے ان دونوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگائی ہے۔

گذشتہ سال جون میں الجزیرہ چینل کے ان تین صحافیوں کو جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم جماعت اخوان المسلمین کی مدد کے الزامات پر سات اور دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ ماہ ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

اپیل کورٹ کا کہنا تھا کہ محمد فہمی اور باہر محمد کے خلاف ابتدائی فیصلہ شواہد کی روشنی میں ثابت نہیں ہوتا۔

مصر کی کورٹ آف کیسیشن کے نائب سربراہ جج انور گیبرے نے پیر کو کہا کہ استغاثہ ان صحافیوں کے خلاف کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان کے تحت غیرملکی قیدیوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان کے تحت غیرملکی قیدیوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

جج کے مطابق یہ مقدمہ اس دعوے کی تفتیش کرنے میں بھی ناکام رہا ہے کہ ملزموں نے جبر کے تحت بیان دیا تھا۔

خیال رہے کہ پیٹر گریسٹا کی رہائی کے بعد کینیڈا اور مصر کی دوہری شہریت رکھنے والے محمد فہمی کی مصری شہریت چھوڑنے پر مشروط رہائی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں لیکن پھر ان کے خلاف دوبارہ مقدمہ شروع کر دیا گیا۔

محمد فہمی کے رشتے داروں نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کو ایک بھیانک خواب سے تعمیر کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ نومبر میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان کے تحت غیرملکی قیدیوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مصری فوج کی جانب سے سنہ 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان المسلمین کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

الجزیرہ چینل کے تینوں صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ممنوع تنظیم اخوان المسلمین سے کی مدد کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔