’پیٹر اپنے ساتھیوں کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر کی جیل سے رہائی پانے والے آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کی رہائی کی کوشش جاری رکھیں گے۔
الجزیرہ چینل سے تعلق رکھنے والے پیٹر گریسٹا کو مصر کی جیل میں 400 دن کی قید کے بعد اتوار کو رہا کر کے ملک بدر کیا گیا تھا۔
رہائی کے بعد وہ قاہرہ سے بذریعہ ہوائی جہاز قبرص پہنچے، جہاں سے وہ اپنے آبائی ملک روانہ ہو چکے ہیں۔
انھیں 2013 میں گرفتار کر کے ان پر جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ان کے دو ساتھی محمد فہمی اور باہر محمد تاحال جیل میں ہیں۔
مصر میں صدارتی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر اور کینیڈا کی دہری شہریت رکھنے والے محمد فہمی کو ان کی مصری شہریت واپس لے کر رہا کیا جا سکتا ہے۔
گریسٹا نے رہائی کے بعد اپنے خاندان کو اپنے دو ساتھیوں کی رہائی سے حوالے سے پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔
آسٹریلیا کے شہر برزبین میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیٹر کے والد جیورس گریسٹا کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے دونوں ساتھیوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پیٹر گریسٹا کے بھائی اینڈریو گریسٹا کا کہنا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ پیٹر کے دونوں ساتھی مصر میں ہی ہیں۔‘
اس موقع پر پیٹر گریسٹا کے بھائی اینڈریو گریسٹا نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کے بھائی کی رہائی میں مدد کی۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پیٹر گریسٹا کو دسمبر سنہ 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا اور گذشتہ سال جون میں جھوٹی خبریں پھیلانے کے جرم میں قید کر دیا گیا تھا۔
یکم جنوری کو قاہرہ میں پبلک پراسیکیوٹر کے ایک بیان کے مطابق ان تینوں افراد کے خلاف دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے اور اس تنظیم کو ساز و سامان فراہم کرنے کے علاوہ تین دیگر الزامات ہیں۔
تینوں صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے کالعدم تنظیم اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔
سنہ 2013 میں مصری فوج کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر کی حکومت نے محمد فہمی اور پیٹر گریسٹا کو سات سات سال جبکہ باہر محمد کو دس سال کی قید کی سزا سنائی تھی۔
پیٹر گریسٹاکا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور وہ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ہیں۔
ان کی رہائی ایک بڑی عالمی مہم کے بعد عمل میں آئی ہے۔
پیٹر کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا ’حوصلہ بلند ہے۔‘ ان کے بھائی کے کہا کہ ’وہ محفوظ، تندرست اور بہت خوش ہیں کہ وہ گھر واپس آ رہے ہیں۔‘
ان کی والدہ لوئیس گریسٹا کا کہنا ہے کہ وہ پیٹر کی واپسی کا جو خواب دیکھتی رہی ہیں وہ پورا ہو رہا ہے۔







