الجزیرہ کے صحافیوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا اعلان

محمد فہمی نے اپنی مصری شہریت ترک کر دی ہے جس کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ انہیں رہائی مل سکے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمحمد فہمی نے اپنی مصری شہریت ترک کر دی ہے جس کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ انہیں رہائی مل سکے گی

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر میں تاحال قید الجزیرہ چینل کے دو صحافیوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت 12 فروری کو ہو گی۔

گزشتہ سال جون میں محمد فہمی اور باہر محمد کو سات اور دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایک عدالت نے گذشتہ ماہ مقدمے کی دوبارہ سماعت کا علان کیا تھا۔

فہمی، باہر اور ان کے ساتھی پیٹر گریسٹا جو الجزیرہ کے تین صحافی تھے کو دسمبر 2013 میں گرفتار کر کے ان پر جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

پیٹر گریسٹا کو گزشتہ ہفتے رہا کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ نومبر میں صدر عبد الفتاح السیسی کی طرف سے جاری کردہ ایک فرمان کے تحت غیرملکی قیدیوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

محمد فہمی کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے رہائی پانے کے لیے اپنی مصری شہریت ترک کر دی تھی۔

ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ فہمی سے آزادی یا شہریت میں سے ایک چیز کے انتخاب کے لیے کہا گیا تھا جس میں سے انہوں نے آزادی کا انتخاب کیا۔

محمد فہمی کے پاس مصر کے علاوہ کینیڈا کی بھی شہریت ہے اور کینیڈا کا کہنا ہے کہ اب ان کی رہائی فوری طور پر ممکن ہے۔

ان میں سے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پیٹر گریسٹا کو اتوار کو 400 دن کی قید کے بعد رہا کر کے ملک بدر کر دیا گیا تھا، جبکہ تیسرے صحافی محمد باہر تاحال قید ہیں۔ ان کے پاس مصر کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں ہے۔

پیٹر گریسٹا نے رہائی کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو جیل میں چھوڑ آنے پر شدید پریشان ہیں۔

مصر کے صدارتی محل کے ذرائع نے پیٹر گریسٹا کی رہائی کے موقعے پر بھی کہا تھا کہ اگر محمد مصری شہریت چھوڑ دیتے ہیں تو وہ بھی رہا ہو سکتے ہیں۔

محمد فہمی کے بھائی عادل نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصری حکام نے فہمی سے کہا کہ اگر وہ آزادی چاہتے ہیں تو انھیں مصر کی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

عادل فہمی نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل فیصلہ تھا۔ محمد کا تعلق ایک محبِ وطن خاندان سے ہے جس سے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ملک کا دفاع کیا ہے اور اس کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کے کئی افراد شہریت ترک کرنے کے فیصلے سے خوش نہیں تھے لیکن محمد کی والدہ اور منگیتر نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا۔

پیٹرگریسٹا کی رہائی اور فہمی کی رہائی کے لیے شہریت ترک کرنے کے بعد ان کے تیسرے ساتھی محمد باہر کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

محمد باہر کو گذشتہ برس مصری عدالت نے دس سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف عالمی پیمانے پر احتجاج ہوا تھا اور اس فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔