شام میں ہپستال پر فضائی حملہ، 15 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReruters

شام کے شہر حلب پر اسد حکومت کے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ تین گھنٹوں کے دوران کل تین طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

شام میں سرگرم کارکنوں کے مطابق مشرقی ضلع الشعار میں واقع بایان ہسپتال کے قریب ایک بم گرا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق حملے کے زد میں آنے والے ایک ہستپال میں اب بھی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور حفاظتی مشین میں موجود بچوں کو نکالا جا رہا ہے۔

ان حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں جلتی ہوئی اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ فضائی حملے کس جانب سے کیے گئے ہیں لیکن حکومتی افواج اس منقسم شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں: سیرین آبزرویٹری

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں: سیرین آبزرویٹری

ایک بیان میں یونیسیف کے مقامی ڈائریکٹر برائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پیٹر سلامہ نے کہا کہ اہبیان اور الحاکم ہسپتال اور عبدالہادی کلینک کو نشانہ بنایا گیا۔

الحاکم ہسپتال میں یہ دوسرا حملہ کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ طبی عملے کے اراکین یا تو ہلاک ہو گئے یا زخمی ہیں۔

طبی اہلکاروں کے مطابق اب علاقے میں بہت ہی کم ہسپتال بچے ہیں جبکہ وہاں کے مکینوں کی تعدا ساڑھے تین لاکھ ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے منگل کو ایک جارحانہ تقریر میں کہا تھا کہ ملک کا ایک ایک انچ باغیوں سے بازیاب کرایا جائے گا۔

حلب پر قبضے کے لیے جاری لڑائی کی وجہ سے روس اور امریکہ کی مدد سے جنگ بندی کے لیے جاری کوششیں بھی ناکام ہو گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحلب پر قبضے کے لیے جاری لڑائی کی وجہ سے روس اور امریکہ کی مدد سے جنگ بندی کے لیے جاری کوششیں بھی ناکام ہو گئی تھیں

صدر اسد نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان جو باغیوں کے سب سے بڑے حامی ہیں ان کی ’امیدوں اور خوابوں‘ کو حلب میں دفن کر دیا جائے گا۔

جنیوا میں اس سال اپریل میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد شام کی نو منتخب پارلیمنٹ سے صدر اسد کا پہلا خطاب ہے۔

حلب شہر جو کبھی شام کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا وہ سنہ 2012 سے حکومت اور باغیوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ حکومتی افواج کا شہر کے مغربی حصے پر قبضہ ہے جب کہ باغی گروپ شہر کے مشرقی حصے پر قابض ہیں۔

حالیہ مہینوں میں حکومتی فوج نے روس کی فضائی مدد سے شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور باغیوں کا ترکی سے دو زمینی راستوں کے ذریعے رابطہ منقطع کر دیا ہے۔

حلب پر قبضے کے لیے جاری لڑائی کی وجہ سے روس اور امریکہ کی مدد سے جنگ بندی کے لیے جاری کوششیں بھی ناکام ہو گئی تھیں۔

مقامی رابطہ کمیٹیوں کے مطابق منگل کو ہونے والے فضائی حملوں میں حیدریہ، الشعار اور مادی کے علاقوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب شامی فوج نے نام نہاد دولتِ اسلامیے کے زیرِ قبضہ متعدد دیہات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کے درمیان موجود مائرہ اور عزاز نامی گاؤں اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔