کلنٹن ’تاریخی لمحے‘ کے لیے حامیوں کی شکرگزار

ہلیری کلنٹن اہم امریکی پارٹی کی جانب سے پہلی خاتون امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہلیری کلنٹن اہم امریکی پارٹی کی جانب سے پہلی خاتون امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں

ہلیری کلنٹن نے امریکہ کی تاریخ میں خواتین کے تاریخی لمحے تک پہنچنے کے لیے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

نیوجرسی میں فتح کے ساتھ انھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کے لیے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔

نیویارک میں خوشیاں مناتے ہوئے حامیوں سے انھوں نے کہا: ’آپ کا شکریہ، ہم نے سنگ میل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی اہم پارٹی کی جانب سے کوئی خاتون امیدوار ہو گی۔‘

٭ <link type="page"><caption> ہو ہی نہیں سکتا کہ میں صدارتی امیدوار نہ ہوں: ہلیری</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/05/160519_hillary_interview_cnn_rh" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’ٹرمپ خطرناک حد تک الجھی ہوئی شخصیت ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160603_clinton_trump_dangerously_incoherent_mb" platform="highweb"/></link>

اس کے چند گھنٹے بعد انھوں نے کیلیفورنیا کا ڈیموکریٹک پرائمری مقابلہ جیت لیا۔ منگل کو ہونے والے پرائمری انتخابات میں انھوں نے کل ملا کر چھ میں چار ریاستوں میں کامیابی حاصل کی، اور کیلیفورنیا کے علاوہ نیوجرسی، ساؤتھ ڈکوٹا اور نیو میکسیکو اپنے نام کر لیے۔

ان کے حریف برنی سینڈرز نے مونٹینا اور نارتھ ڈکوٹا میں برتری حاصل کی۔ وہ اب تک صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے باہر ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔

برنی سینڈرز نمائندگی کے لیے سپر ڈیلیگیٹس پر بھروسہ کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرنی سینڈرز نمائندگی کے لیے سپر ڈیلیگیٹس پر بھروسہ کر رہے ہیں

اس سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں کہا گیا تھا کہ کیلیفورنیا میں سخت مقابلہ ہو گا لیکن کلنٹن نے 13 فیصد کی واضح برتری سے کامیابی حاصل کی۔

سینڈرز کو توقع تھی کہ وہ امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا سے جیت کر اپنی مہم کو تقویت دیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

انھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 14 جون کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے انتخابات تک میدان میں رہیں گے، تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی راہ بہت کٹھن ہے۔

اس سے قبل خبررساں ادارے اے پی نے پیر کو خبر دی تھی کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار بننے کے لیے درکار مندوبین کی مطلوبہ تعداد حاصل کر لی ہے۔

اے پی کے مطابق ہلیری کلنٹن کے حمایتی مندوبین کی تعداد 2,383 ہوگئی ہے جس کے بعد وہ اپنی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کر سکتی ہیں۔

اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے

برنی سینڈرز جولائی میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں سپر ڈیلیگیٹس کو اپنی جانب کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ورمونٹ کے سینیٹر اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔

اس طرح ہلیری کلنٹن اہم امریکی پارٹی کی جانب سے پہلی خاتون امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے نیو جرسی میں اپنی جیت کے بعد ٹویٹ کیا: ’ہر اس لڑکی کے لیے جو بڑے خواب دیکھتی ہے: ہاں، تم جو چاہتی ہو وہ بن سکتی ہو، یہاں تک کہ صدر بھی۔ آج کی رات تمہاری ہے۔‘

دوسری جانب رپبلکن کے ممکنہ امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو جرسی میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کامیابی کے بعد نومبر میں ہونے والے انتخابات کی جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا: ’ابھی ہم تو یہ ہمارا صرف آغاز ہے، آگے کا سفر بہت خوبصورت ہو گا۔‘