برہنہ حالت میں ایک شخص شیروں کے پنجرے میں داخل

شیروں کی ہلاکت پر چڑیا گھر کا عملہ بے حد افسردہ ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشیروں کی ہلاکت پر چڑیا گھر کا عملہ بے حد افسردہ ہے

چلی کے ایک چڑیا گھر میں ایک شخص بظاہر خودکشی کی نیت سے برہنہ حالت میں شیروں کے پنجرے داخل ہوگیا اور اس کو بچانے کے لیے حکام کو دو شیروں کو گولی مارنی پڑی۔

اس 20 سالہ شخص کو شیروں نے حملہ کر کے شدید زخمی کردیا اور اس شخص کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہے۔

چلی کے شہر سانتیاگو میں واقع اس چڑیا گھر میں جس وقت یہ واقع پیش آیا اس وقت چڑیا گھر میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں سے بعض نے یہ سارا ماجرا اپنی آنکھوں دیکھا۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شیروں کو مارنے پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ چڑیا گھر کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان کے پاس شیروں کو فوراً بہوش کرنے والی ادویات نہیں تھیں اور ان کے لیے انسانی زندگی کو بچانا زیادہ اہم تھا۔

سانتیاگو کے چڑیا گھر کی سربراہ مانتابیلا کا کہنا ہے کہ یہ شخص شیروں کے پنجرے میں چھت کے راستے داخل ہوا اور پھر اس نے اپنے کپڑے اتار دیے۔

مانتابیلا کے بقول ایسی صورتحال کے حوالے سے چڑیا گھر کے کچھ طے شدہ ضابطے ہیں اور ان ہی کے مطابق اس شخص کی جان بچانے کے لیے شیروں کو مارا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کے مارے جانے والے شیروں میں ایک نر اور ایک مادہ تھی۔

مانتابیلا کے مطابق شیروں کی ہلاکت پر چڑیا گھر کا عملہ بے حد افسردہ ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق متاثرہ شخص کے کپڑوں سے ایک نوٹ ملا ہے جس میں اس شخص نے خود کشی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اس واقعے کے کچھ عینی شاہدین کے بقول اس شخص کو مذہبی کلمات بھی ادا کرتے سنا گیا تھا۔