ترکی: دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ’چار کرد باغی ہلاک‘

 استنبول میں عسکری تنصیبات کے قریب ایک کار بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن استنبول میں عسکری تنصیبات کے قریب ایک کار بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوئے

ترکی کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی صوبے دیار بکر میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے چار مشتبہ کرد باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق ضلع ساریکمیش میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

باغیوں کے بارے میں قیاس ہے کہ ان کے تعلق کردستان ورکرز پارٹی سے تھا۔

اس سے قبل جمعرات کو ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں عسکری تنصیبات کے قریب ایک کار بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

استنبول کے گورنر کے مطابق زخمیوں میں پانچ فوجی اہلکار اور تین شہری شامل ہیں۔

تاحال اس دھماکے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی۔

وزارت داخلہ کے مطابق ساریکمیش میں اس وقت دھماکہ ہوا کہ جب ایک چوری شدہ گاڑی میں دھماکہ خیز مواد لادا جارہا تھا اور وہ ’قبل از وقت پھٹ گیا۔‘

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق زخمی ہونے والے عام شہری ہیں۔‘

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دیاربکر شہر میں بھی سنی گئی ہے۔

واضح رہے ترکی میں حالیہ چند ماہ میں کئی دھماکے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم یا کرد جنگجوؤں پر عائد کی جاتی ہے۔

کرد تنظیم پی کے کے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد آبادی والے علاقوں کی خودمختاری کا مطالبہ کرتی ہے۔