ترکی میں کار بم دھماکہ، دو پولیس افسر ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک کار بم حملے میں اس کے دو پولیس افسر ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شام کی سرحد کے پاس نصیبین کے علاقے میں یہ دھماکہ ہوا ہے جس میں عام شہریوں سمیت 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس حملے کے لیے حکومت نے کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی بھی گروپ نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ دھماکے سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے اور زخمی ہونے والوں میں چار افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
گذشتہ جولائی میں حکومت اور پی کے کے کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے ترکی میں تشدد ميں اضافہ ہوا ہے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق یہ حملہ جمعے کی صبح مردین صوبے میں ہوا ہے۔ یہ حملہ پولیس سٹیشن اور پولیس کی رہائش والے مقام سے کافی قریب کیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پی کے کے ترکی میں اپنے ایک الگ ریاست کے قیام کے لیے سنہ 1984 سے ترکی کی حکومت سے نبرد آزما ہے۔ ترکی اور اس کے مغربی اتحادی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
کرد ملیشیا سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ گذشتہ ماہ انقرہ میں فوج کی ایک گاڑی پر اسی طرح سے بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے تھے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کی وجہ سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔‘
طیب اردوغان نے کہا تھا: ’ترکی کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا کسی بھی موقعے پر اپنے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔‘







