’انقرہ میں بم دھماکہ کرد ملیشیا نے کیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نےانقرہ میں ہونے والے جان لیوا بم دھماکوں میں مبینہ طور پرملوث نو افراد کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے شام میں موجود کرد ملیشیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان دھماکوں کے پیچھے ہے۔
احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ اس ملیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد ترکی میں کردوں کی کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر کے ساتھ مل کر یہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ترکی نے بدھ کی رات کو شمالی عراق میں موجود کردستان ورکرز پارٹی کی فورسز پر حملہ کیا تھا۔
دریں اثنا جنوب مشرقی ترکی میں ایک فوجی قافلے کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں چھ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ دھماکہ ترکی کے شہروں دیاربکر اور بنگول کو ملانے والی شاہراہ پر ہوا تھا۔
ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ بدھ کو ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے 28 افراد میں سے 26 سپاہی تھے۔
انھوں نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت شام کے شہری صالح نقار کے طور پر کر لی گئی ہے جو شامی کردستان پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی ) کا رکن تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ بم دھماکے اور کرد تنظیم وائی پی جی کے درمیان براہ راست تعلق کی تصدیق ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حملہ ترکی میں موجود کردستان ورکرز پارٹی کے سہولت کاروں کی مدد اور تعاون سے کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کردوں کی تنظیم وائے پی جی کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے لیکن امریکہ سمیت اس کے اتحادی ممالک وائے پی جی کو نام نہاد دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف مدد فراہم کر رہے ہیں۔
داؤد اوغلو نے کہا کہ انقرہ میں ہونے والے دھماکوں نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وائی پی جی ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ترکی اپنے اتحادیوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کارروائیوں میں ترکی کی مدد کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انقرہ میں بم دھماکہ 61 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
قبل ازیں ملک کے صدر طیب اردوغان نے کہا: ’ترکی کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا کسی بھی موقعے پر اپنے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کرےگا۔‘
انقرہ میں بم دھماکے کے چند گھنٹے بعد صدر اردوغان کی طرف جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کے لیے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔‘
انقرہ میں گورنر ہاؤس کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی اس وقت دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک فوجی قافلہ اس کے قریب سے گزر رہا تھا۔
یہ دھماکہ پارلیمان اور ملٹری ہیڈکوارٹر کے قریبی علاقے میں ہوا ہے۔ نائب وزیر اعظم باقر بوزدک نے اس حملے کو ’دہشت گرد کارروائی‘ قرار دیا تھا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آوازیں پورے شہر میں سنی گئیں اور بڑے پیمانے پر دھویں کے بادل دیکھے گئے۔
دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد صدر اردوغان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کی وجہ سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔‘







