ترکی: دیار باقر میں کار بم دھماکہ، چھ افراد ہلاک 39 زخمی

ترکی کے میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی صوبے دیار باقر میں پولیس ہیڈکوارٹر پر بم حملہ ہوا جس میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 39 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے۔

دیار بارقر صوبے کے جینار ضلعے میں ہونے والے اس حادثے کی جگہ امدادی اہلکار ملبے کے نیچے بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

حکام نے اس حملے کا الزام کردستان کی ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں پر عائد کیا ہے جو کردوں کی اکثریت والے صوبے میں زیادہ سرگرم ہیں۔

جینار میں ہونے والے حملے میں کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں

،تصویر کا ذریعہKADIR KONUKSEVER AL JAZEERA TURK

،تصویر کا کیپشنجینار میں ہونے والے حملے میں کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں

تاہم ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ترکی کی میڈیا کے مطابق پولیس کی عمارت کے دروازے پر بم دھماکہ کیا گیا جبکہ دھماکے میں آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس کے بعد مبینہ طور پر حملہ آوروں نے ہیڈ کوارٹر پر راکٹ داغے۔

حالیہ مہینوں کے دوران دیار باقر میں کرد علیحدگی پسندوں اور ترکی فوج کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئي ہیں۔

دھماکے میں آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

،تصویر کا ذریعہKADIR KONUKSEVER AL JAZEERA TURK

،تصویر کا کیپشندھماکے میں آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

گذشتہ سال دیار باقر شہر کے ساتھ جنوب مشرقی علاقے کے بہت سے حصوں میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ایک بم دھماکے میں 16 فوجی مارے گئے تھے اور پھر ایک دوسرے حملے میں 14 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور یہ دونوں واقعات مشرق میں رونما ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ جولائی میں کردوں اور ترکی کی فوج کے درمیان جنگ بندی ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد بھی ترکی کے طیاروں نے شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے اور اس کے علاوہ بہت سے علاقوں میں زمینی کارروائی بھی کی ہے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی اتحاد میں ترکی بھی شامل ہے، تاہم انقرہ پر کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے جبکہ کرد خود بھی دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔