دہشت گردی کی ازسر نو تعریف ضروری ہے: اردوغان

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ازسر نو تعریف کرنا ضروری ہے تاکہ اس میں ان کو بھی شامل کیا جاسکے جو ایسی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بندوق بردار یا بم رکھنے والے دہشت گرد اور ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے جو اپنا عہدہ اور قلم دہشت گردوں کے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘
صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ یہ صحافی، رکن پارلیمان یا کوئی سرگرم کارکن بھی ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں اتوار کی شام ہونے والے دھماکے جس میں 37 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
تاحال کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حکومتی ذرائع اس کارروائی کے لیے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ترکی نے ملک کے جنوب مشرق اور عراق میں موجود کرد باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ انقرہ اس دھماکے سے قبل گذشتہ چند ماہ کے دوران دو بڑے دھماکوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گذشتہ ماہ یہاں ایک بم حملے میں ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دھماکے میں 28 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دھماکے کی ذمہ داری کرد جنگجو گروہ ’ کردستان فریڈم ہاکس‘ نے قبول کی تھی اور اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ صدر رجب طیب اردوغان کی پالیسیوں کے خلاف انتقامی کارروائی تھی۔
اس سے قبل گذشتہ برس اکتوبر میں شہر میں کرد باشندوں کی ایک امن ریلی میں دو خودکش دھماکوں سے 100 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار مراک لوئن کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ترک دارالحکومت میں ہونے والے تین بڑے حملے ترکی کو درپیش سکیورٹی خطرات کا مظہر ہیں۔







