ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں دھماکہ، 34 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP

ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے کیزیلے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے ہونے والی میں ہلاکتوں کی تعداد 34 ہو گئی ہے جبکہ 125 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

شہر کے گورنز کے دفتر نے ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ جس جگہ حملہ ہوا وہ شہر میں کمرشل اور ٹرانسپورٹ کا گڑھ تھا۔

ترکی کے وزیرِ صحت نے بتایا ہے کہ مرنے والے 34 افراد میں سے دو مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ دھماکہ ایک بس سٹاپ کے قریب ایک کار میں ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں کھڑی گاڑیوں مںی آگ لگ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ شہر میں موجود سرکاری عمارتوں کے قریب ہوا ہے اور جائے وقوعہ پر کچھ گاڑیوں کو آگ لگی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے۔

حریت اخبار کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق شام 6:41 منٹ ہونے والے اس دھماکے کے بعد کسی دوسرے دھماکے کے خدشے کے پیشِ نظر علاقے کو خالی کروا لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ پر متعدد ایمولینسز دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایک اعلی سکیورٹی اہلکار کے مطابق یہ دھماکہ خود کش کار بم حملہ معلوم ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنایک اعلی سکیورٹی اہلکار کے مطابق یہ دھماکہ خود کش کار بم حملہ معلوم ہو رہا ہے

ایک اعلی سکیورٹی اہلکار نے خور رساں ادارے رؤٹرز کو بتایا کہ یہ دھماکہ خود کش کار بم حملہ معلوم ہو رہا ہے۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار مراک لوئن کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ترک دارالحکومت میں ہونے والے تین بڑے حملے ترکی کو درپیش سکیورٹی خطرات کو ظاہر کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

ایک ترک اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 35 منٹ پر ہوا ہے اور جائے وقوعہ پر کئی ایمبولینسز موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مزید دھماکوں کے خطرے کے پیشِ نظر علاقے کو خالی کروایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ انقرہ میں گزشہ ماہ ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری کرد جنگجو گروہ ’ کردستان فریڈم ہاکس‘ نے قبول کی تھی۔

گروہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ صدر رجب طیب اردوغان کی پالیسیوں کے خلاف انتقامی کارروائی تھی۔

گذشتہ برس اکتوبر میں کرد امن ریلی پر ہونے والے دو خود کش حملوں میں کم سے کم 100 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہhurriyet.com.tr

،تصویر کا ذریعہDHA