امریکہ ابو قتالہ کی سزائے موت کا مطالبہ نہیں کرے گا

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے ذمہ دار اسلامی شدت پسند احمد ابو قتالہ کے لیے سزائے موت کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے اس فیصلے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی جس کا مطلب ہے کہ ابو احمد قتالہ کا جرم ثابت ہونے پر انھیں عمر قید کا سامنا ہے۔
* <link type="page"><caption> ’بن غازی قونصلیٹ کی سکیورٹی ناکافی تھی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121219_clinton_accepts_recommendation_rk" platform="highweb"/></link>
* <link type="page"><caption> ’بن غازی حملے کی خفیہ اطلاعات نہیں تھیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/10/121010_us_libya_warning_tk" platform="highweb"/></link>
واضح رہے کہ سنہ 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں واقع امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ہلاک ہونے والے افراد میں لیبیا میں تعینات امریکی سفیر کرس سٹیونز بھی شامل تھے۔
اسلامی شدت پسند ابو احمد قتالہ بن غازی میں واقع امریکی سفارت خانے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
امریکہ کی سپیشل افواج نے دو سال قبل ابو احمد قتالہ کو لیبیا گرفتار کر کے انھیں امریکہ منقتل کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ ابو قتالہ بن غازی میں واقع امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملوں کے سرغنہ تھے۔
ناقدین امریکی صدر براک اوباما اور اس وقت کی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن پر اس حملے کو روکنے پر ناکامی پر تنقید کرتے ہیں۔







