شامی جیل میں بغاوت ختم کرنے کا معاہدہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اطلاعات کے مطابق شام کے ایک جیل میں قیدیوں کی بغاوت ختم کرنے کے لیے معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس جیل میں اکثریت سیاسی قیدیوں کی بتائی جاتی ہے۔
حکومت کو قابلِ قبول حزبِ اختلاف کی پیپلز پارٹی کے رہنما شیخ نواف ال میلہم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے حما سینٹرل جیل میں ریاست اور قیدیوں کے درمیان ایک معاہدہ کرایا ہے۔
ابھی تک حکومت نے اس معاہدے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
لیکن شیخ نواف کہتے ہیں کہ جیل کی پانی اور بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہےاور اس کے گورنر واپس آ گئے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل قیدیوں نے جیل کے محافظوں کو اس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب وہ وہاں موجود کئی قیدیوں کو کسی دوسری جیل میں منتقل کر رہے تھے۔ قیدیوں کا کہنا تھا کہ یہاں سے منتقل کیے جانے والے قیدیوں کو دوسری جیل میں سزائے موت دی جانی تھی۔
سکیورٹی فورسز نے جیل کو گھیرے میں لے لیا لیکن اس پر طاقت کے زور سے قبضہ کرنے میں ناکام رہیں۔
مرکزی شام کے ممتاز قبائلی رہنما شیخ نواف نے کہا کہ انھوں نے سنیچر کو حما جیل کا دورہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ قیدیوں کا مطالبہ تھا کہ جن کو حراست میں لیا گیا ہے ان کا منصفانہ اور تیز مقدمہ نمٹایا جائے اور جن کو کسی جرم کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے انھیں رہا کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو جب انصاف اور داخلہ کے وزیر حما آئے تو شیخ نواف نے انھیں مطالبات پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ اسی دن بغاوت ختم کرنے کا معاہدہ ہوا جس میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ حکومت کی طرف سے منصفانہ مقدمات وعدہ بھی شامل تھا۔
انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن معزن درویش نے بھی، جن کا قیدیوں سے رابطہ ہے، زبانی معاہدے کی تصدیق کی ہے، تاہم انھوں نے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
ایک اور کارکن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حکومت نے ’بغیر کسی جرم کے قید کیے گئے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے ہمارے اکثر مطالبات کو مان لیا ہے۔‘
یہ بغاوت اس وقت ہوئی جب کئی قیدیوں کو دمشق کے قریب قائم بدنامِ زمانہ جیل سدنایا کو منتقل کرنے کی تیاری کی گئی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک وکیل نے کہا کہ ’آپ اپنے برے ترین خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے کہ سدنایا جیل کیا ایذیت ہے۔‘







