عراق: دولت اسلامیہ کے ہاتھوں امریکی فوجی کی ہلاکت

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی محکمہ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی عراق میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ایک امریکی فوجی کو ہلاک کر دیا ہے۔
یہ امریکی فوجی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی تنظیم کرد پیشمرگا کی مدد کے لیے تعینات تھا۔
ہلاک ہونے والے اس فوجی کا نام چارلی کیٹنگ بتایا گیا ہے۔ 31 سالہ جنگی ماہر نیوی سیل کا تعلق امریکی ریاست ایریزونا سے تھا۔
پیشمرگا حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ شہر موصل کے شمال میں فرنٹ لائن کو عبور کیا۔
سنہ 2014 میں دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ کا آغاز کرنے کے بعد سے اب تک میدان جنگ میں ہلاک ہونے والے یہ تیسرے امریکی فوجی ہیں۔
تاہم عراقی حکومتی فورسز امریکی اتحادیوں کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں اور فوجی مشاورت کی مدد سے دولت اسلامیہ کو بتدریج پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوئی ہیں لیکن اب بھی شدت پسند تنظیم کو ملک کے شمال اور مغرب میں بڑے پیمانے پر کنٹرول حاصل ہے۔
امریکی نیوی سیل کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے صرف اتنا ہی کہا کہ ’عراقی علاقے اربل میں دشمن کی فائرنگ میں ایک امریکی فوجی مارا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایشٹن کارٹر نے جرمنی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لازمی طور پر یہ دوران جنگ موت ہے اور بہت افسوسناک نقصان ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد ازاں عراق میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ فوجی کو دولت اسلامیہ کی جانب سے پیشمرگا کی چوکی سے تین سے پانچ کلومیٹر دور سے براہ راست گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔
پیشمرگا فورسز کے ترجمان میجر جنرل جابر یاور نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ منگل کے روز دولت اسلامیہ کے جنجگوؤں نے قصبے تل ازقوف پر چڑھائی کر دی تھی لیکن بعد میں پیشمرگا فورسز انھیں قصبے سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔
کرد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ موصل کے مشرق میں وردک کے مقام پر کیے جانے والے حملے کو بھی ناکام بنایا گیا۔
اس وقت عراق میں 5500 سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے 3870 کے قریب فوجی دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی مقامی فورسز کی مشاورت اور مدد کرنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔







