دولت اسلامیہ سے دور رکھنے کےلیےمارشل آرٹ

آسٹریا میں چیچن باشندوں کو دولت اسلامیہ سے دور رکھنے کے لیے مارشل آرٹ کی تربیت دی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنآسٹریا میں چیچن باشندوں کو دولت اسلامیہ سے دور رکھنے کے لیے مارشل آرٹ کی تربیت دی جا رہی ہے

گذشتہ تین سالوں میں آسٹریا کے270 شہریوں نے لڑائی کی غرض سے نام نہاد دولت اسلامیہ اور دیگر جنگجوگروہوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک سے شام اور عراق میں لڑائی کی غرض سے جانے والے غیر ملکی افراد میں بیلجئیم پہلے جبکہ آسٹریا دوسرے نمبر پر ہے۔

لڑائی کےلیے جانے والے زیادہ تر افراد چیچن (شیشان) نژاد ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں حکومتی اور سماجی حلقوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ جانے والے افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے رہائشی علاقے میں مارشل آرٹ کی تربیت دی جارہی ہے۔

تربیت میں مصروف زیادہ تر لڑکوں کا تعلق بے توجہی کا شکار چیچین آبادی سے ہے، وہ یہاں مارشل آرٹ کی نئی قسم لیٹرڈو سیکھ رہے ہیں۔

ان کے والدین پُرامید ہیں کہ اس کھیل میں مصروفیت انھیں سڑکوں پر بے کار پھرنے سے باز رکھے گی اور وہ بنیاد پرست اسلام پسندوں سے محفوظ رہیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ تین سالوں میں چیچین نژاد آسٹریا کے تقریباً ڈیڑھ سو افراد نے لڑائی کی غرض سے شام اور عراق کا سفر کیا ہے جبکہ ان کے گھر والوں کو ان کی وجہ سے پریشانی کا سامنا ہے۔

آسٹریا میں تقریبا 30 ہزار چیچن نژاد آباد ہیں
،تصویر کا کیپشنآسٹریا میں تقریبا 30 ہزار چیچن نژاد آباد ہیں

ان بچوں کے استاد ایڈم بسائیو نے بتایا کہ ’لڑکوں میں بہت توانائی ہے، بہت طاقت ہے۔ اگر ہم نے انھیں صحیح راستے پر نہیں لگایا تو یہ بچے نشہ کرنے لگیں گے یا پھر لڑنے چلے جائیں گے۔ یہ (مارشل آرٹ) ایک دم اُلٹ ہے، یہ ان کے مستقبل کے لیے بہتر ہے۔‘

آسٹریا میں 30 ہزار چیچین رہائش پزیر ہیں اور یورپ میں یہ چیچین قوم کی سب سے بڑی آبادی ہے۔

ایڈم بسائیو بتاتے ہیں کہ چیچنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی یہاں اتنی آسان نہیں ہے، انھیں اکثر تعصب کاسامنا رہتا ہے۔ وہ خود سنہ 2003 میں یہاں آئے تھے۔

غیر ملکی جنگجوؤں کی حیثیت سے لڑائی کے لیےجانے والے افراد محض چیچین نژاد ہی نہیں ہیں بلکہ دیگر اقلیتی آبادی مثلاً بوسنیا، بلقانی، اور عرب نژاد بھی اس جانب راغب ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ آسٹریا کے چند نومسلم بھی ان میں شامل ہیں۔

سنہ 2014 میں ویانا کی بوسنیا نژاد نوعمر لڑکیاں ثمرا اور سبینہ بھی شام گئی تھیں جہاں اطلاعات کے مطابق انھوں نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے جگجوؤں سے شادیاں کرلی تھیں۔

دولت اسلامیہ کے لیےآسٹریا کے نوجوانوں کی بھرتی کے الزام میں مسلمان مبلغ مرصاد عمروک کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔

تاہم گذشتہ ایک سال میں آسٹریا سے جانے والے غیرملکی جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

دو نوعمر لڑکیاں سبینہ اور ثمرا مبینہ طور پر شام گئی تھیں
،تصویر کا کیپشندو نوعمر لڑکیاں سبینہ اور ثمرا مبینہ طور پر شام گئی تھیں

آسٹریا کی وزارت داخلہ کے ترجمان کارل ہینزگرونڈبوئک کہتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کا پروپیگنڈا ’اب زیادہ موثر نہیں رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہمارے پاس زیادہ معلومات ہے اور سماجی حلقوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اب داعش (دولت اسلامیہ) کے لیے لوگوں کو لڑائی کے لیے راضی کرنا آسان نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ کئی کامیاب تحقیقات کے بعد ہم نے گرفتاریاں بھی کی ہیں۔‘

انتہاپسندی سے متعلق تشویش کا شکار لوگوں کی مدد کے لیے خصوصی طور پر ٹیلی فون لائن بھی قائم کی گئی ہے۔

سماجی تنظیم ’وومن ودآؤٹ بارڈرز‘ معاشرے کے کمزور حلقوں کے بچوں میں بنیاد پرستی کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے لیے ماؤں کے ساتھ مل کے کام کر رہی ہے جبکہ ساتھ ہی حکام اور سماجی حلقوں کے مابین ایک پُل کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔

آسٹریا سے شام جانے والوں کی تعداد میں تو کمی آئی ہی ہے تاہم 80 غیرملکی جنگجو واپس بھی آئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جیلوں میں قید ہیں جبکہ حکام ان پہ گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔