کینیا میں 100 ٹن ہاتھی دانت نذر آتش کردیے گئے

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے افریقہ کے ہاتھیوں کا وجود دہائیوں کے اندر ختم ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے افریقہ کے ہاتھیوں کا وجود دہائیوں کے اندر ختم ہو سکتا ہے

کینیا کے صدر اُہُورُو کنیاٹا نے افریقہ میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے اپنے ملک کے عزم کے اظہار کے لیے ہاتھی دانتوں کی ایک بڑی تعداد کو نذرآتش کر دیا ہے۔

دارالحکومت نیروبی کے نیروبی نیشنل پارک میں 100 ٹن سے زائد ہاتھی دانتوں کو آگ لگا دی گئی جو توقع ہے کہ کئی دنوں تک لگی رہے گی۔

٭ <link type="page"><caption> ’ہاتھیوں کی موت افریقی سیاحت کی موت ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160429_kenya_giant_elephants_rwa" platform="highweb"/></link>

یہ ہاتھی دانت کینیا کی جانب سے ضبط کیے گئے تقریباً تمام ذخائر پر مشتمل تھے جو تقریباً 6700 ہاتھیوں سے حاصل کیے گئے تھے۔

کینیا کے اس اقدام کے ساتھ کچھ افراد کی جانب سے اختلاف بھی کیا جارہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ہاتھی دانتوں کے لیے غیرقانونی شکار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

نذر آتش کیے گئے ہاتھی دانتوں میں ان سے تیار شدہ مجسمے اور دیگر اشیا بھی شامل تھیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننذر آتش کیے گئے ہاتھی دانتوں میں ان سے تیار شدہ مجسمے اور دیگر اشیا بھی شامل تھیں

ہاتھی دانتوں کو نذرآتش کرنے سے قبل صدر اُہُورُو کنیاٹا نے کہا تھا کہ ’ ہاتھی دانت کے ذخائر کو جلانا میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ہاتھی دانت کے غیر قانونی شکاریوں اور ان کے ساتھیوں کو اس سے فائدہ اٹھانے سے روک سکوں۔‘

کینیا کی جانب سے یہ اقدام افریقی ممالک کے سربرہان کے ہاتھی دانتوں کی غیرقانونی تجارت سے متعلقہ اجلاس کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے افریقہ کے ہاتھیوں کا وجود دہائیوں کے اندر ختم ہو سکتا ہے۔

تاہم جنگلی جانوروں کا تحفظ کرنے والے نے کینیا میں ہاتھی دانتوں کے نذرآتش کیے جانے کی مخالفت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ایک نایاب چیز کو ضائع کرنے سے اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور سے غیرقانونی شکار میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔

کینیا میں ایک اندازے کے مطابق 4,50,000 سے 5,00,000 ہاتھی پائے جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنکینیا میں ایک اندازے کے مطابق 4,50,000 سے 5,00,000 ہاتھی پائے جاتے ہیں

افریقہ ملک بوسٹوانا میں افریقی ہاتھیوں کی تقریباً نصف تعداد موجود ہے۔ اس کی جانب سے ہاتھی دانتوں کو جلائے جانے کی مخالفت کی گئی تھی اور اس کی صدر بھی نیروبی میں منعقدہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ ہاتھی دانت کی مقبولیت کئی ہزار سال پرانی ہے۔ اس کی شفافیت، خوبصورتی اور اس سے چیزوں کی تیاری میں آسانی وہ عوامل ہیں جو اسے اس لمبے عرصے سے مقبول رکھے ہوئے ہیں۔

کینیا میں ایک اندازے کے مطابق 4,50,000 سے 5,00,000 ہاتھی پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے تقربیاً ہر سال 30,000 ہاتھیوں کو ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کی وجہ سے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔