امریکہ میں ٹنوں ہاتھی دانت تباہ کر دیا گیا

امریکہ میں گذشتہ 25 سال میں ضبط کیے گئے ہاتھی دانت کے چھ ٹن سے زیادہ سامان کو ضائع کر دیا گیا
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں گذشتہ 25 سال میں ضبط کیے گئے ہاتھی دانت کے چھ ٹن سے زیادہ سامان کو ضائع کر دیا گیا

امریکہ میں چھ ٹن سے زیادہ ضبط شدہ ہاتھی دانت اور ہاتھی دانت کے بنے زیورات اور دوسرے نوادرات کو کچل کر ضائع کر دیا گیا ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں یہ اشیا گذشتہ 25 برسوں میں اکٹھا کی گئی تھی جنھیں امریکی شہر ڈینور کے نیشنل وائلڈ لائف پراپرٹی ریپوزیٹری میں سٹیل کو کرش کرنے والی مشین میں ڈال کر ختم کر دیا گيا۔

یہ سامان سمگلروں، تاجروں اور سیاحوں سے مختلف امریکی بندرگاہوں پر ضبط کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 1989 میں ہاتھی دانت پر بین الاقوامی پابندی کے بعد سے یہ اشیا امریکہ میں داخل ہونے کے مقامات پر ضبط کی گئیں۔

بین الاقوامی سطح پر ہاتھی دانت پر لگنے والی پابندی کے باوجود ہاتھیوں کو ان کے قیمتی دانت کے لیے اب بھی ہلاک کیا جا رہا ہے۔

دنیا بھر میں ہاتھی دانت کے سامان کو نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں ہاتھی دانت کے سامان کو نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے

امریکہ میں جنگلی حیاتیاتی خدمات کے ڈائریکٹر ڈین ایشے کا کہنا ہے کہ ’ہاتھی دانت سے بنی ان اشیا کی بہت ان ذخیروں کی بہت مانگ تھی اور ہمیں ساری دنیا میں ہاتھی دانت کی بنی اشیا کو کچل دینا چاہیے۔‘

ایشے کے خیال میں ’اگر اس کے ذخائر موجود رہیں گے تو اس کی مانگ بھی برقرار رہے گی۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ ان ذخیروں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے کم از کم دو ہزار بالغ ہاتھی مارے گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے افریقی ہاتھی کی نسل ناپید ہونے کا خطرہ پیدا ہو گيا ہے۔

ہاتھی دانت کے لیے غیر قانونی طور پر ہاتھیوں کے قتلِ عام سے بعض نسلوں کو ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہے
،تصویر کا کیپشنہاتھی دانت کے لیے غیر قانونی طور پر ہاتھیوں کے قتلِ عام سے بعض نسلوں کو ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہے

ہاتھی دانت کے سامان پر عالمی پابندی کے بعد دو دہائی کے دوران گذشتہ سال اس سے منسلک سب سے زیادہ غیر قانونی سامان ضبط کیا گیا۔

دریں اثنا بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے لاؤس میں موجود جانوروں کی غیر قانونی ہلاکت کے سنڈیکیٹ کو ختم کرنے کے لیے دس لاکھ امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ گروپ نایاب قسم کے گینڈے اور ہاتھیوں کو ان کے سینگوں اور دانتوں کے لیے مار دیتے ہیں اور اس وجہ سے ماہرین کے مطابق ان کے ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

انھوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگلی حیاتیات کی چوری اور سمگلنگ سے ہونے والے منافعے سے دوسری غیر قانونی سرگرمیوں جیسے منشیات، اسلحے اور انسانوں کی سمگلنگ وغیرہ کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔