’خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ شمال مشرقی ریاستوں میں کامیابی کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح کیے ہیں۔
واشنگٹن میں بین الاقوامی امور پر اپنی پہلی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں’سب سے پہلے امریکہ‘ کو اولین ترجیح دیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ کی پالیسی ’مکمل طور پر تباہ کن ہے۔‘
* <link type="page"><caption> ’اگر عورت نہ ہوتیں تو ہلیری کو پانچ فیصد ووٹ بھی نہ ملتے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160427_trump_clinton_win_north_east_mb" platform="highweb"/></link>
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر سے پہلے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی تفصیلات ’ٹرمپ ڈاکٹرِن‘ نہیں ہوں گی اور اگر وہ منتخب ہو گئے تو اس میں تبدیلی کے لیے کچھ لچک رکھیں گے۔
ٹرمپ کی تقریر میں زیادہ زور اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر تھا جسے انھوں نے’ کمزور، مبہم اور منتشر‘ قرار دیتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ وہ اسے تبدیل کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈونلڈ ٹرمپ نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بارے میں کہا کہ ’ان کے دن پورے ہو چکے ہیں، میں ان کو نہیں بتاؤں گا کہ یہ کب ہوئے اور کس طرح ہوئے۔‘
اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی تیل تک رسائی کو ختم کر کے اسے کمزور کر دیں گے اور وہ ان کے خلاف تفتیش کے لیے واٹر بورڈنگ سمیت دیگر طاقتور طریقے استعمال کرنے کے حق میں ہیں، تاہم بدھ کی تقریر میں انھوں نے ان تجاویز پر بات نہیں کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور درحقیقت یہ دنیا کا بھی ہدف ہو گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ زیادہ قریبی کام کریں گے۔
نیٹو اور دیگر طاقتیں

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو میں موجود امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ نئی بات چیت کی جائے گی تاکہ اس تنظیم کے ڈھانچے کو نئی شکل دی جا سکے اور اس میں امریکی مالی وسائل کا توازن قائم کرنے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ بھی بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اسلامی انتہا پسندی کے بارے میں اتفاق رائے قائم ہو سکے۔
چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنا چاہیں گے، لیکن یہ کام کیسے کیا جائے گا اس کے بارے میں انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔
امریکی اتحادی

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکہ جن ممالک کا دفاع کرتا ہے انھیں اس دفاع کی قیمت ادا کرنا ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ کو تیار ہونا ہو گا کہ یہ ممالک اپنا دفاع خود کریں۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
ٹرمپ نے گذشتہ ماہ نیویارک ٹائمز اخبار سے بات کرتے ہوئے جاپان کے بارے میں کہا تھا کہ اگر ہم پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ہمارے دفاع کے لیے نہیں آئیں گے اور اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں مکمل طور پر ان کا دفاع کرنا ہو گا اور یہی اصل مسئلہ ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیٹیکٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، پینسلوینیا اور روڈز آئی لینڈ میں کامیابی کے بعد خود کو رپبلکن پارٹی کا ’ممکنہ نامزد صدارتی امیدوار‘ کہا ہے۔
جولائی میں پارٹی کے قومی کنونشن سے قبل یہ نتائج انھیں صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے مطلوبہ تعداد کے قریب لے آئے ہیں۔
ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ
ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے بارے میں انھوں نے اپنا سابقہ موقف دہرایا۔ انھوں نے براک اوباما پر الزام لگایا کہ انھوں نے امریکہ کے ایک درینہ دوست اسرائیل کو ناراض کرکے ایران کو ’نرمی اور پیار‘ دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ ایک تباہ کن معاہدہ کیا اور اس کے بعد ایران کو اس معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دینے چاہیں۔
گذشتہ ماہ اپنی ایک تقریر میں ٹرمپ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دینے کی بات کرچکے ہیں۔
ان کے مشیر کون ہیں
ٹرمپ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ وہ خود ہی اپنے بہترین خارجہ امور کے مشیر ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں انھوں نے اپنے مشیروں میں اضافہ کیا ہے۔ بعض مشیروں کے انتخاب پر ان پر تنقید بھی کی گئی۔
ان کے مشیروں کی ٹیم کی قیادت الاباما سے تعلق رکھنے والے رپبلکن پارٹی کے سینیٹر جیف سیشنز کرتے ہیں جو سابق وفاقی وکیل بھی رہے ہیں۔ ان کے دوسرے مشیروں میں ریٹائرڈ جنرل جوزف شمٹز بھی شامل ہیں جنھیں سنہ دو ہزآر پانچ میں نامناسب رویے کے الزامات لگنے پر ریٹائر ہو گئے تھے۔
ایک اور مشیر والڈ فریز ہیں جنھیں سنہ دو ہزار گیارہ میں مٹ رومنی کی ٹیم میں شامل کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مسلمانوں کی وکلات کرنے والے ایک گروہ نے والڈ فریز کے لبنان کی خانہ جنگی کے دوران عیسائی ملیشیا سے تعلق کے مسئلہ کو اٹھایا تھا۔







