اقوام متحدہ کے سینیئر افسر کی ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید

ذید رعد الحسین نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام تو نہیں لیا لیکن انہیں متعصب اور کٹّر پن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کٹّرپن مضبوط لیڈر شپ کا ثبوت نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنذید رعد الحسین نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام تو نہیں لیا لیکن انہیں متعصب اور کٹّر پن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کٹّرپن مضبوط لیڈر شپ کا ثبوت نہیں ہے

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کے ہائی کمشنر نے امریکی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

کمشنر زید رعد الحسین نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام تو نہیں لیا لیکن مسلمانوں کے تئیں ان کی پالیسز اور ٹارچر کے تعلق سے ان کے موقف پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے انھیں متعصب اور کٹّر پن سے تعبیر کیا۔

مسٹر حسین نے کہا ’ کٹّرپن مضبوط لیڈر شپ کا ثبوت نہیں ہے۔‘

دوسرے ریپبلکن امیدوار ٹیڈ کروز کے اس موقف پر بھی انھوں نے نکتہ چینی کی جس میں کروز نے مسلمانوں کے آس پڑوس میں نگرانی رکھنے کی بات کہی تھی۔

رعد الحسین نے اوہائیو میں سامعین سے بات کرتے ہوئے کہا ’'نفرت انگیز بیانات، اشتعال انگیزی اور دوسروں کو دبانے کی باتیں نہ تو ہنسانے والی تفریح ہے اور نہ ہی سیاسی مفاد کے لیے کوئی باوقار گاڑی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس ملک کے صدر بننے کے لیے ہونے والے مقابلے میں سبقت لینے والے ایک امید وار نے چند ماہ قبل ٹارچر کی اپنی پرجوش حمایت کا اعلان کیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ معلومات حاصل کرنے کے لیے جو شاید ان کے پاس ہوں بھی نہ اس کے لیے لوگوں کو ناقابل برداشت تکلیف پہنچانا۔‘

اپنی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے شدت پسندی کے الزام میں افراد گرفتار افراد کو ایذائیں دینے کی حمایت کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناپنی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے شدت پسندی کے الزام میں افراد گرفتار افراد کو ایذائیں دینے کی حمایت کی ہے

اپنی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے شدت پسندی کے الزام میں افراد گرفتار افراد کو ایذائیں دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹارچر کام کرتا ہے‘ اور اگر وہ اقتدار میں آئے تو اسے دوبارہ سخت ترین فارم میں نافذ کریں گے۔

بش انتظامیہ نے شدت پسندوں سے تفتیش کے دوران پانی میں ڈبونے اور دیگر سخت ترین ایذائیں دینے کا طریقہ اپنایا تھا جس پر صدر اوباما نے پابندی عائد کر دی تھی۔

مسٹر ٹرمپ نے اس سے بھی سخت ایذائیں دینے کے طریقے نافذ کرنے کی بات کہی ہے جس کی کئی عالمی رہنماؤں نے نکتہ چینی کی ہے۔

مبصرین کا کا کہنا ہے اقوام متحدہ کے اتنے سنیئر افسر کی جانب سے اتنی سخت تنقید کے باوجود بھی نیو یارک کے ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ باز آنے والے نہیں ہیں کیونکہ وہ تو خود اقوام متحدہ پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔

مارچ میں اسرائیلی کارکنان سے بات چيت کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا ’اقوام متحدہ جمہوریت کا دوست نہیں ہے۔ یہ تو امریکہ کا بھی دوست نہیں ہے جبکہ سب کو پتہ ہے کہ اس کا دفتر امریکہ میں ہی ہے۔ اور اسرائیل کو تو یقینی طور پر دوست نہیں ہے۔‘