’ٹرمپ خارجہ پالیسی اور عالمی امور سے انجان ہیں‘

صدر اوباما نے واشنگٹن میں جوہری سلامتی سے متعلق کانفرنس کے موقعے پر کہا ہے کہ دنیا نئے امریکی صدر سے ’متانت اور وضاحت‘ کی توقع رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے واشنگٹن میں جوہری سلامتی سے متعلق کانفرنس کے موقعے پر کہا ہے کہ دنیا نئے امریکی صدر سے ’متانت اور وضاحت‘ کی توقع رکھتے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ صدارتی دوڑ میں ریبپلیکنز کے صف اوّل کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو خارجہ پالیسی کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور دیگر عالمی امور کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔‘

براک اوباما نے ان خیالات کا اظہار ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو جاپان اور جنوبی کوریا سے فوج واپس بلا لینی چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ان دو بڑے اتحادی ملکوں سے فوج واپس بلا کر اس کے بدلے جوہری ہتھیار نصب کر دینے چاہیئں۔‘

دونوں ممالک نے اس خیال پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

صدر اوباما نے واشنگٹن میں جوہری سلامتی سے متعلق کانفرنس کے موقعے پر کہا ہے کہ دنیا نئے امریکی صدر سے ’متانت اور وضاحت‘ کی توقع رکھتے ہیں۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور دیگر عالمی امور کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے

،تصویر کا ذریعہReuters Getty

،تصویر کا کیپشنبراک اوباما کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور دیگر عالمی امور کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے

ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع اور جارحانہ بیان کے باعث تحقیقاتی ادارے اکونومسٹ انٹیلیجنس یونٹ ( ای آئی یو) کی ایک تحقیق کے مطابق اگر امریکی ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گئے تو یہ دنیا کو درپیش 10 بڑے خطرات میں سے ایک خطرہ ہو سکتا ہے۔

ای آئی یو کی جانب سے جاری کی گئی درجہ بندی میں ٹرمپ کی صدارت کو برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج اور جنوبی بحیرۂ چین میں لڑائی سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔ادارے نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کو صدارت ملنے کا مطلب عالمی معیشت میں بےچینی اور امریکہ میں سیاسی اور سکیورٹی سے متعلق خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔