’ٹرمپ کی صدارت دنیا کے لیے بڑا خطرہ‘

ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں تاحال سب سے آگے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں تاحال سب سے آگے ہیں

اکونومسٹ انٹیلیجنس یونٹ ( ای آئی یو) کی ایک تحقیق کے مطابق اگر امریکی ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گئے تو یہ دنیا کو درپیش 10 بڑے خطرات میں سے ایک خطرہ ہو سکتا ہے۔

ای آئی یو کی جانب سے جاری کی گئی درجہ بندی میں ٹرمپ کی صدارت کو برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج اور جنوبی بحیرۂ چین میں لڑائی سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کو صدارت ملنے کا مطلب عالمی معیشت میں بےچینی اور امریکہ میں سیاسی اور سکیورٹی سے متعلق خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے ’امید نہیں ٹرمپ ہلیری کلنٹن کو شکست دے پائیں گے‘ جو اس کے خیال میں ڈیموکریٹس کی متوقع امیدوار ہیں۔

ای آئی یو کی جانب سے خطرات کی درجہ بندی ایک سے 25 پوائنٹس کے سکیل پر کی گئی ہے۔

چینی معیشت کا زوال 20 پوائنٹس کے ساتھ پہلے جبکہ یوکرین اور شام میں روس کی مداخلت کے نتیجے میں نئی ’سرد جنگ‘ کا آغاز 16 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہEIU

ای آئی یو کی جانب سے اس رپورٹ سے متعلق بیان میں کہا گیا ہے کہ تاحال ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کے بارے میں بہت کم بات کی ہے اور ان کی پالیسیاں بہت تیزی سے تبدیل بھی ہوتی رہی ہیں۔

درجہ بندی میں ٹرمپ کی صدارت کو 12 پوائنٹس کے ساتھ چھٹا بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق ان کی صدارت، دہشت گردی کے نتیجے میں عالمی معیشت کے عدم توازن جتنی ہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ای آئی یو نے کہا ہے کہ ’وہ (ٹرمپ) آزادانہ تجارت کے بارے میں سخت خیالات رکھتے ہیں اور بارہا چین کو کرنسی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے والا ملک قرار دے چکے ہیں۔‘

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کا میکسیکو اور چین کے بارے میں سخت الفاظ کا استعمال جلد ہی ایک تجارتی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر میکسیکو کے خرچے سے ایک بڑی دیوار کی تعمیر کی بات کی تھی تاکہ ’میکسیکو سے امریکہ آنے والے غیرقانونی تارکینِ وطن اور منشیات کے سمگلرز‘ کو امریکہ سے دور رکھا جا سکے۔