کیا ٹرمپ امریکی قرضہ ختم کر سکتے ہیں؟

- مصنف, زو تھامس
- عہدہ, بی بی سی بزنس رپورٹر، نیو یارک
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران ان کی پالیسی سفارشات کئی بار سرخیوں میں نظر آئی ہیں۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی ماہرین اقتصادیات کو چلانے پر اتنا مجبور نہ کر سکیں جتنا کہ ان کی اس تجویز نے کیا کہ وہ امریکی حکومت کے قرضے آٹھ سال میں ختم کر سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جتنی کمپنیاں چلا رہے ہیں ان میں سے کئی کمپنیوں کے قرضوں پر انھیں دوبارہ سے بات چیت کرنا پڑی۔ تاہم ان کمپنیوں میں سے کسی پر بھی اتنا قرضہ نہیں تھا یا ان قرضوں کے انتظام کا نظام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ امریکی حکومت کا ہے پھر بھی تقریباً تمام معاہدوں کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو کمپنی کا کنٹرول دینا پڑا۔
سرکاری طور پر امریکی حکومت پر ایک سو 90 کھرب ڈالر سے زائد کا قرضہ ہے۔ اس میں وہ رقوم بھی ہیں جو حکومت نے سیونگ بانڈز اور خزانے کے ذریعے قرضے کے طور پر حاصل کیں۔
جب سے امریکی حکومت نے بلوں کی ادائیگیوں کے لیے ٹیکسوں کی صورت میں حاصل ہونے والی رقوم سے زیادہ قرض لینا شروع کیا ہے جس میں یہ قرضے بھی شامل ہیں وہ خسارے میں چلی گئی ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ قرضوں کا یہ ہندسہ کہیں زیادہ ہو جائے گا اگر حکومت اس میں وہ رقم بھی شامل کر دے جو اس نے وفاقی پروگراموں کو چلانے کے لیے لی ہیں۔
آٹھ سالوں میں ان قرضوں کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اضافی 20 کھرب ڈالر لانے ہوں گے اور وہ بھی مزید نئے اخراجات کے بغیر۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مہم کے ترجمان بیری بینٹ کا کہنا ہے کہ ملک کا قرض حکومتی اثاثہ جات کو بیچ کر اتارا جا سکتا ہے جس میں حکومتی عمارات، زمین اور توانائی کے ذرائع شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا دعویٰ ہے کہ ایسا کرنے سے 160 کھرب ڈالر کی رقم اکھٹی کی جا سکتی ہے۔
امریکہ کے احتساب کے دفتر کے مطابق وفاقی حکومت کے اثاثہ جات کی مالیت 30 کھرب دس ارب ڈالر ہے اور اس میں قدرتی ذرائع یا نگرانی کے اثاثہ جات شامل نہیں ہیں۔

بیری بینٹ کے بتائے ہوئے ہندسے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کو اپنے تمام قومی پارکوں اور قدرتی وسائل کو بیچنا پڑےگا جس میں لکڑی اور معدنیات شامل ہیں۔
ملکی خسارہ جسے سیاستدان قدرے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے دوران نظر انداز کرتے رہے اب اس بلندی پر پہنچ چکا ہے کہ جہاں اب امریکہ کو اس مسّلے سے نمٹنے کی ضرورت ہے وہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکسوں اور اخراجات کے لیے بنائے گئے مجموعی اقتصادی منصوبے ملک کو محالف سمت میں لے جائیں گے۔
بوسٹن یونیورسٹی میں اقصادیات کے پروفیسر لارنس کاٹلیکاف کا کہنا ہے ’اگر ڈونلڈ ٹرمپ ویسا کرتے ہیں جیسا کہ وہ کہہ رہے ہیں تو آٹھ سالوں میں مالی خلا مزید بڑا ہو جائے گا۔‘
رسپانسبل فیڈرل بجٹ کی کمیٹی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ قومی قرضوں کو دوگنا کر دیں گے، بڑھتا ہوا خسارہ سنہ 2026 تک ویسے ہی 20 کھرب آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا اور جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اخراجات اور ٹیکس میں کٹوتی کی تجویز دی ہے اس سے مزید دس کھرب ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے منصوبے کے تحت قومی خسارے میں اضافہ نہیں ہو گا کیونکہ کٹوتیاں ٹیکس بچنے کے راستے کو بند کردینے سے برابر ہو جائیں گی۔
بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے ران ہیسکنز کا کہنا ہے ’ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس منصوبے کے ساتھ آٹھ سالوں میں متوازن بجٹ نہیں بن سکتا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت معیشت کو بڑھانا اہم مقصد دکھائی دے رہا ہے جس کا وہ وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کر کے اسے پورا کریں گے۔
ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق ’خسارے اور قرضوں کو کم کرنے کا مطلب ہے کہ چین ہمیں ہمارے خزانے کے ساتھ بلیک میل نہیں کر سکے گا۔‘
ماہرین کے مطابق ایسا دکھائی نہیں دے رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تجاویز سے قومی قرض کم ہوگا بلکہ اس مزید اضافہ ہو جائے گا۔







