’سونے کے دل والی‘ یونانی خاتون

پانایوتا کو اپنے مہمانوں کی حالت زار کا بخوبی علم ہے
،تصویر کا کیپشنپانایوتا کو اپنے مہمانوں کی حالت زار کا بخوبی علم ہے

یونان کا شہر اڈومینی دس ہزار سے زائد افراد کے غیر مطلوب گھر کے نام سے مشہور ہوگیا ہے۔

یہاں زیادہ تر افراد کا تعلق شام اور عراق سے ہے۔

سرحد کے قریبی گاؤں میں جگہ جگہ ٹینٹ لگے ہوئے ہیں اور یہاں صورت حال بہت خراب ہے۔

مقدونیا کے حکام کی جانب سے سرحد بند کرنے سے تقریباً دس لاکھ سے زیادہ تارکین وطن اڈومینی سےگزرے ہیں۔ اِس چھوٹے سے علاقے میں کاشت کار بستے ہیں اور یہاں صرف 150 خاندان آباد ہیں۔

اِس چھوٹی سی بستی میں پانایوتا ویسِلیاڈو نامی ضعیف خاتون رہتی ہیں، جن کے سینے میں دل سونے کا ہے۔

شام میں جنگ کے باعث حلب چھوڑنے والی 22 سالہ حاجا پانایوتا کے گھر میں رہائش پذیر ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ’ماما ہم پر بہت مہربان ہیں۔‘

’میری اِن سے ملاقات میدان میں کچھ جڑی بوٹیاں اکھٹا کرنے کے بعد ہوئی۔ میں اِن سے کھانا پکانے کے برتن اُدھار مانگنے آئی تھی۔‘

جب اُنھوں نے پانایوتا کو برتن واپس لوٹائے تو اُس وقت حاجاکے ہمراہ نو دیگر افراد اور بھی موجود تھے جو سب کے سب بارش کی وجہ سے بھیگے ہوئے تھے۔

ماجد ان پناہگزینوں میں سے ایک ہیں جنھیں اس مہربان خاتون نے سہارا دیا
،تصویر کا کیپشنماجد ان پناہگزینوں میں سے ایک ہیں جنھیں اس مہربان خاتون نے سہارا دیا

پانایوتا کہتی ہیں کہ ’میں شروع میں خوفزدہ تھی، لیکن اُن میں سے ایک کے پاس چھ مہینے کے چھوٹی بچی تھی تو میں نے اُنھیں اندر آنے کی دعوت دے دی۔‘

’اُن کے پاؤں سوجھ چکے تھے اور سردی کی وجہ سے اُن کے ہونٹ نیلے ہو چکے تھے۔ وہ آتش دان کے سامنے کھڑے کپکپا رہے تھے۔‘

ماہانہ پینشن کے ساتھ پناہ گزینوں کی مدد کرنا آسان کام نہیں ہے اور یونان کے معاشی حالات کی وجہ سے پینشن کی رقم کو ویسے ہی 700 سے کم کر کے 450 یورو کر دیا گیا ہے۔

22 سالہ ماجد کا تعلق بھی شام سے ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہماری والدہ کی طرح ہیں۔ ہم اِن سے بہت پیار کرتے ہیں۔ یہ ہم سے بچوں کی طرح پیش آتی ہیں۔‘

میرا ماضی اور ان کا حال

کچھ پڑوسیوں نے پانایوتا کے فراخدلانہ رویے کو مسترد کردیا ہے کیونکہ اُنھیں یہاں تارکین وطن کی شکل میں انتہا پسند نظریات کے حامل افراد کی آمد کا ڈر ہے۔

یہاں زیادہ تر افراد کا تعلق شام اور عراق سے ہے
،تصویر کا کیپشنیہاں زیادہ تر افراد کا تعلق شام اور عراق سے ہے

لیکن پانایوتا کو اپنے مہمانوں کی حالت زار کا بخوبی علم ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آج یہ لوگ پناہ گزین ہیں لیکن ماضی میں ہم پناہ کی تلاش میں تھے۔‘

سنہ 1941 میں یونان پر نازیوں کے قبضے کے وقت، جرمنی کی حلیف بلغاری فوج نے شمال کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اِس دوران پانایوتا کے گاؤں چامیلو کو نظر آتش کردیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’اُس وقت میں صرف سات برس کی تھی۔ ہمارے پاس جسم پر موجود کپڑوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔‘

مجھے یاد ہے کہ میرے والدین رو رہے تھے۔ اُن کے پاس مجھے اور میرے بھائیوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا، اُس وقت پڑوسیوں نے ہماری مدد کی تھی۔

دو سال بعد وہ اور اُن کا خاندان اڈومینی منتقل ہوگیا تھا۔

سر اُٹھا کر رہو

یہاں کے لوگوں کو یونان ریلوے کارپوریشن کی جانب سے پرانے ٹرین کے ڈبے دیے گئے ہیں جو اب خستہ حال گھروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

جب جرمنوں نے ان کے گھر کو آگ لگا دی توپانایوتا کا خاندان اس گاؤں میں آ کر آباد ہو گیا
،تصویر کا کیپشنجب جرمنوں نے ان کے گھر کو آگ لگا دی توپانایوتا کا خاندان اس گاؤں میں آ کر آباد ہو گیا

حاجا کہتی ہیں کہ ’جنگ کے بغیر میں یورپ نہیں آسکتی تھی۔ میں یہاں نہیں آنا چاہتی تھی۔‘

کپڑوں کی دکان پر کام کرنے والی حاجا کا کہنا ہے کہ ’اب ہم یہاں صرف انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن کس لیے؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو مجھے کچھ نہیں معلوم کے میں کیا کرسکتی ہوں۔‘

اِن کی زندگی بدترین دور سے گزر رہی ہے، تاہم پانایوتا کے پاس مسکرانے کی وجہ ہے۔

’آغاز میں یہ سب شرم اور جھجک کا شکار تھے اور ہر وقت سر نیچے کیے رہتے تھے۔ لیکن میں نے اُنھیں کہا کہ اپنا سر اُٹھا کر جیو! جو ہونا تو وہ ہو چکا۔ تم سب جوان ہو۔‘

’بھکاری نہیں‘

باورچی خانے میں کھانا تیار ہو رہا تھا، جہاں گھر میں تیار کیا ہوا پیزا، مرغ اور دیگر چیزیں تھی۔

کھانے کی میز پر بیٹھنے سے قبل پانایوتا کہنے لگیں کہ اڈومنی میں پھنسے ہوئے لوگ بھکاری نہیں ہیں۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ سرحدیں کھول دیں اور اِن کو اپنی زندگی گزارنے کی اجازت دیں۔

یہاں بہت سے پنا ہگزینوں کا گزارا حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد پر ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنیہاں بہت سے پنا ہگزینوں کا گزارا حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد پر ہوتا ہے

ماجد کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے قائل کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا ’اگر یہ لوگ یہاں سے کہیں اور جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میں اِن کو یاد کروں گی۔ اگرچہ ہم ایک دوسرے کی زبان سمجھ نہیں پاتے ہیں لیکن ہم باتیں کرتے ہیں، ایک ساتھ ہنستے ہیں۔‘

اُن کی بات سُن کر ماجد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’ٹھیک ماما، بالکل ٹھیک ماما۔‘