قطر بھی سوچنے پر مجبور؟

،تصویر کا ذریعہAFP
دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک قطر بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سےاپنی فراخدلانہ پالیسیوں پر غور کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
تیل کی دولت سے مالا مال قطر کی ریاست دنیا میں بینکوں، یورپی فٹبال کلبوں، لندن اور دنیا میں مہنگی ترین عمارتوں میں سرمایہ کاری کے لیے مشہور ہے۔
لیکن دنیا میں تیل کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی کی وجہ سے چھوٹی سی یہ عرب ریاست بھی اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ قطر اپنے اہم منصوبوں میں کٹوتیاں کر رہا ہے اور ریاستی رعایتوں میں کٹوتی اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی باتیں کرنے لگا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
قطر نے اہم منصوبوں جن میں سنہ 2022 میں عالمی فٹبال کپ کے لیے میدانوں کی تیاری سمیت بہت سے منصوبوں کا حجم کم کرنے اور ملازمین کی چھانٹی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق قطر فٹبال ورلڈ کپ کے انعقاد پر 220 ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ قطر کی حکومت نے ورلڈ کپ کےلیے ابتدا میں 12 سٹیڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اب وہ صرف آٹھ میدان تعمیر کر رہا ہے۔
انرجی فرم راس گیس، قطر پیٹرولیم اور میرسک آئل قطر سے 2014 سے اب تک ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے۔
نشریاتی ادارے الجزیرہ نے سنہ 2016 میں اپنی عالمی دفاتر میں سے ایک ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔ قطر فاؤنڈیش کے زیر اہتمام چلنے والے سدرہ میڈیکل ریسرچ سینٹر نے بھی ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر ریل نے بھی 50 ملازمین کو بچت کے نام پر نکال دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
قطر میوزیم اتھارٹی سے جنوری 2015 سے 250 ملازمین کی ملازمت کو ختم کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قطر نے ریاستی تحویل میں چلنے والے کئی اداروں کو نجی ملکیت میں دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
قطر ریاستی رعایتیں دینے کے لیے مشہور ہے لیکن اب اس نے بچت کے لیے ملک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو ریاستی رعایتوں کے دائرے سے نکال باہر کیا ہے۔ قطر کی موجودہ آبادی کا 40 فیصد حصہ غیر ملکی مزدور ہیں۔
قطر نے چند گھنٹوں کے نوٹس پر ملکی صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ کر دیا تھا۔
سعودی عرب کی سربراہی میں یمن میں حوثیوں کے خلاف عرب ممالک کی فوجی کارروائی میں قطر بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے اور اس کے ایک ہزار فوجی یمن کی جنگ میں مصروف ہیں۔ یہ قطر کی سب بڑی فوجی کارروائی ہے۔
قطر اپنی فوجی طاقت کو مزید بڑھانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور سنہ 2014 سے اب تک 23 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
15 برسوں میں پہلی بار قطر کو 13 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے اور اس کی وجہ شاید تیل اور گیس پر انحصار ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
قطر کے وزیر ترقی نے صالح محمد النبت نے کہا ہے کہ ریاستی اخراجات میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لوگارڈ نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ اخراجات اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات پر توجہ دے۔
قطر کے امیر نے نومبر 2015 میں کہا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے لوگوں کا ریاست پر انحصار کم ہو جائے گا۔







