قطر: ورلڈ کپ کی تعمیرات میں ’جبری مشقت‘

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں ورلڈ کپ کے لیے مقامات کی تعمیراتی مزدوروں کی تعداد 36000 ہو جائے گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایمنٹسی کا کہنا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں ورلڈ کپ کے لیے مقامات کی تعمیراتی مزدوروں کی تعداد 36000 ہو جائے گی

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ قطر میں سنہ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے بنائے جانے والے سٹیڈیمز میں مزدوروں سے جبری مشقت کروائی جا رہی ہے۔

ایمنسٹی کا الزام ہے کہ خلیفہ انٹرنیشنل سٹیڈیم میں مزدوروں کو جبراً گندی جگہ رہنے پر مجبور کیا گیا ہے، ان سے بھرتی کے لیے بھاری فیس وصول کی گئی اور ان کی تنخواہیں اور پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں۔

ادارے نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

قطر کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات پر پریشان ہے اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

قطر کی حکومت نے کہا ہے کہ تارکینِ وطن مزدوروں کی فلاح ان کی ترجیح ہے۔ حکومت نے اصرار کیا کہ وہ قطر میں مزدوروں سے متعلق قوانین میں اصلاحات کے لیے پر عزم ہے۔

گذشتہ برس قطر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے ’کفالہ‘ نظام میں تبدیلیاں کریں گے جس کے تحت دوسرے ملکوں سے آنے والے مزدور نہ تو ملازمت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے مالک کی اجازت کے ْغیر ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔

نیپالی مزدوروں نے بتایا کے اپریل میں آنے والےشدید زلزے کے بعد کئی لوگوں کو اپنے خاندان سے ملنے کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیپالی مزدوروں نے بتایا کے اپریل میں آنے والےشدید زلزے کے بعد کئی لوگوں کو اپنے خاندان سے ملنے کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی

لیکن ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے بہت معمولی فرق پڑے گا اور کئی غیر ملکی کارکنوں کی زندگی مستقل ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔

ادارے کے جنرل سیرٹری سلیل سیٹھی کا کہنا تھا ’تمام کارکن اپنے تمام حقوق چاہتے ہیں جن میں وقت پر تنخواہ کا ملنا، ضرورت پڑنے پر ملک سے جانا اور وقار اور عزت کے ساتھ برتاؤ کیا جانا شامل ہے۔‘

اجیمنسٹی نے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے 231 تارکینِ وطن کا انٹرویو کیا جن میں سے 132 سٹیڈیم اور 99 سپورٹس کمپلیکس میں کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدور فراہم کرنے والی کمپنی انھیں زیادہ کام نہ کرنے کے عوض سزاؤں کی دھمکی دیتی جیسے کہ تنخوا نہ دینا، پولسی کے حوالے کر دینا اور قطر سے باہر نہ جانے دینے کو کہا جاتا۔

ایمنسٹی کے مطابق یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جبری مشقت میں آتا ہے۔

قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ انتظامی ترقی، مزدوروں اور سماجی بہبود کی وزرات ان تمام کانٹریکٹرز کے بارے میں چھان بین کرے گی جن کا نام رپورٹ میں دیا گیا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ لگ بھگ ہر مزدور کا ان مختلف طریقےسے استحصال کیا گیا۔ جیسے کہ 4300 ڈالر بھرتی کی فیس لی گئی، انھیں وعدہ کے مطابق تنخواہ نہیں ملی، بعض دفعہ یہ بتائی گئی رقم کا نصف ہوتی ہے، انھیں شکایت کرنے پر دھماکایا جاتا۔

خلیفہ سٹیڈیم میں دھات کا کام کرنے والے ایک انڈین مزدور نے بتایا کہ اسے کئی ماہ تنخواہ نہ ملنے کی شکایت پر اس کے مالک نے دھمکایا۔

’وہ مجھ پر چلایا، برا بھلا کہا اور کہا کہ اگر میں نے دوبارہ شکایت کی تو کبھی ملک چھوڑ کر نہیں جا سکوں گا۔‘

’اس کے بعد میں محتاط ہوں کے میں یہاں اپنی تنخوا اور کسی بھی دوسری چیز کے بارے میں شکایت نہ کروں یقیناً اگر میں ایسا کر سکتا تو میں ملازمت بدل لیتا یا قطر کو چھوڑ کے چلا جاتا۔‘

دھات کا کام کرنے والے ایک نیپالی مزدور نے بتایا کہ ان کی ’زندگی گویا ایک جیل جیسی ہے۔‘

بعض نیپالی مزدوروں نے بتایا کے اپریل میں آنے والےشدید زلزے کے بعد کئی لوگوں کو اپنے خاندان سے ملنے کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

ایمنسٹی نے ورلڈ کپ کے بڑی سپانسرز ایڈیڈاس، کوکاکولا، اور مک ڈونلڈز سے کہا ہے کہ وہ فیفا پر وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

ادارے کا مطالبہ ہے کہ قطر ورلڈ کپ کہ بڑے منصوبوں سے پہلے جامع اصلاحات کا منصوبہ پیش کرے۔

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں ورلڈ کپ کے لیے مقامات کی تعمیراتی مزدوروں کی تعداد 36000 ہو جائے گی۔

فیفا نے تسلیم کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے تیاریوں کے سلسلے مںی انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے میزبان ملک کے معاشرتی مسائل نہیں حل کر سکتا۔